پنجاب اسمبلی ‘اپوزیشن کا نواز شریف کے انٹر ویو اور سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کو مسترد کرنے کیخلاف دوسرے روز بھی احتجاج

ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے احتجاج اور مخالفانہ نعرے بازی کیوجہ سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا، اپوزیشن اراکین نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاج کے دوران ’’گو عباسی گو‘‘ کے نعرے لگائے

منگل مئی 23:34

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) پنجاب اسمبلی میںاپوزیشن کا (ن) لیگ کے قائد نواز شریف کے متنازعہ انٹر ویو اور قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کو مسترد کرنے کے خلاف دوسرے روز بھی شدید احتجاج ‘ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے احتجاج اور مخالفانہ نعرے بازی کیوجہ سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا، اپوزیشن اراکین نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر احتجاج کے دوران ’’گو عباسی گو‘‘ کے نعرے لگائے۔

تفصیلات کے مطابق منگل کے روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس اپنے مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ 35منٹ کی تاخیر سے اسپیکر رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہوا ۔اجلاس کے آغاز میں ہی قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی پاکستان کا سب سے بڑا فورم ہے، اس اجلاس کی صدارت وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کی جس نے نواز شریف کے انٹرویو کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مستردکردیا ۔

(جاری ہے)

نواز شریف نے اس اعلیٰ سطح کمیٹی کے اعلامیہ کو مستردکردیا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نواز شریف سسٹم کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں۔۔نواز شریف ملک کے خلاف گھنائونی سازش میں ملوث ہیں ۔ اپنی کرپشن کو چھپانے کے لئے نئے شوشے چھوڑ رے جارہے ہیں ۔۔نواز شریف کی جانب سے جمہوریت اور سرحدوں پر تابڑ توڑ حملے کیے جا رہے ہیں ۔ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ درج کر کے کارروائی ہونی چاہیے ۔

انہوںنے کہا کہ نواز شریف کی جانب سے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کو مسترد کرنے پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو فی الفور مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ اب ان کو اس منصب پر بیٹھنے کا کوئی حق حاصل نہیں ۔ہم نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں قرارداد جمع کر ارکھی ہے اسے پیش کرنے کی اجازت دی جائے او رجب تک نواز شریف اپنے بیان پر قوم سے معافی نہیں مانگتے ایوان نہیں چلنے دیں گے۔

اسی دوران حکومتی بنچوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے نعرے بازی شروع کر دی جس کے جواب میں اپوزیشن کی جانب سے بھی نعرے بازی کی گئی جس سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا ۔بعد ازاں اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور نعرے بازی کرتے رہے۔ اس دوران ایوان کی کارروائی چلانا محال ہو گیا جس پراسپیکر رانا محمد اقبال نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے اجلاس کی کارروائی 20 منٹ کے لیے روک دی۔

اجلاس کا دوبارہ آغاز ہونے پر ڈاکٹر نوشین حامد کے سوال کا جواب دیا جارہا تھاکہ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر مراد راس نے کورم کی نشاندہی کر دی ۔تعداد پوری نہ ہونے پر اسپیکر نے پانچ منٹ کیلئے گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی اور دوبارہ گنتی پر بھی کورم پورا نہ تھا جس پر اسپیکر نے اجلاس آج بدھ صبح دس بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔اپوزیشن اراکین کی جانب سے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر بھی احتجاج کیا گیا اور مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے اورگو عباسی گو کے نعرے لگائے گئے ۔