پاکستان کے 3 مرتبہ منتخب وزیر اعظم کے خلاف اعلامیے جاری کرنا افسوسناک ہے، میاں جاوید لطیف

پاکستان کے اندر محب الوطنی اور غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹنے بند کر دیں،جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا اور اندھیروں کو دور کیا اس کو بھی غدار کہا جا رہا ہے، وزیر اعظم کی تقریر کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے سے روک دیا گیا، اندازہ لگا لیں کہ ملک کے اندر حکومت کتنی کمزور ہے مسلم لیگ (ن ) کے رکن قومی اسمبلی کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو

منگل مئی 23:41

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) مسلم لیگ (ن ) کے رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان کے 3 مرتبہ منتخب وزیر اعظم کے خلاف اعلامیے جاری کرنا افسوسناک کام ہے،،پاکستان کے اندر محب الوطنی اور غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے بند کر دیں،جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا اور اندھیروں کو دور کیا اس کو بھی غدار کہا جا رہا ہے، وزیر اعظم کی تقریر کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے سے روک دیا گیا، اندازہ لگا لیں کہ ملک کے اندر حکومت کتنی کمزور ہے ۔

وہ منگل کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نا معلوم نواز شریف نے کون سے اداروں کے خلاف بات کر دی ہے جو ان کو اتنا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

جو شخص پاکستان کا 3مرتبہ وزیر اعظم رہ چکا ہو اس کے خلاف اعلامیے جاری کرنا افسوسناک کام ہے۔ اگر اس ملک کے اداروں کی عزت ہے تو جو ان اداروں کی مضبوطی کیلئے کام کرتے ہیں اور عوام کے ووٹ لیکر اسمبلی میں آتے ہیں ان کی بھی عزت کرنی چاہیے۔

کسی کی دشمنی میں اس حد تک نہیں جانا چاہیے کہ اس کو ملک کا غدار ڈیکلئیر کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا اور اندھیروں کو دور کیا اس کو بھی غدار کہا جا رہا ہے۔ میری گزارش ہے کہ پاکستان کے اندر محب الوطنی اور غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے بند کر دیں۔ ہماری افسوسناک تاریخ ہے کہ ڈکٹیٹر نے قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح کو بھی غدار کہا تھا۔

مسئلہ صرف نواز شریف کی بات کا ہے، اگر نواز شریف کی جگہ کسی اور نے یہ بات کہ ہوتی تو کوئی اس بات کا نوٹس بھی نہ کرتا۔ مسلم لیگ(ن) اپنے قائد کے ساتھ کھڑی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی اور پوری تیاری کے ساتھ آئندہ انتخابات میں حصہ لے گی۔ پاکستان کے وزیر اعظم کی تقریر کو سرکاری ٹی وی پر نشر کرنے سے روک دیا گیا، اس سے اندازہ لگا لیں کہ ملک کے اندر حکومت کتنی کمزور ہی