قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں نواز شریف کے بیان کی وضاحت کی گئی، رانا افضل

بدقسمتی ہے کہ قومی اسمبلی کے اندر اپوزیشن جماعتیں بھارتی لابی کا بیانیہ بیان کر رہے ہیں، نواز شریف نے پاکستان کے مفادات کو بیچنا ہوتا تو وہ کبھی بھی بین الاقوامی دبائو کے باوجو دایٹمی دھماکے نہ کرتے،اگر کسی کو نواز شریف کی حب الوطنی پر شک ہے تو تحقیقات کیلئے قومی کمیشن بنا دیں ، عمران خان بولتے پہلے اور سوچتے بعد میں ہیں، اسی لیے ان کو الزام خان کہا جاتا ہے،وزیر مملکت برائے خزانہ کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو

منگل مئی 23:41

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضلنے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نواز شریف کے بیان کی وضاحت کی گئی ہے، بدقسمتی ہے کہ قومی اسمبلی کے اندر اپوزیشن جماعتیں بھارتی لابی کا بیانیہ اسمبلی کے اندر بیان کر رہے ہیں، نواز شریف نے پاکستان کے مفادات کو بیچنا ہوتا تو وہ کبھی بھی بین الاقوامی دبائو کے باوجوش ایٹمی دھماکے نہ کرتے،اگر کسی کو نواز شریف کی حب الوطنی پر شک ہے تو قومی کمیشن بنا دیں جو تحقیقات کرے ، عمران خان بولتے پہلے میں ہیں اور سوچتے بعد میں ہیں اسی لیے ان کو الزام خان کہا جاتا ہے۔

وہ منگل کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے اوپر غداری کے مقدمات رد کر دیے ہیں۔

(جاری ہے)

ہماری بدقسمتی ہے کہ قومی اسمبلی کے اندر اپوزیشن جماعتیں بھارتی لابی کا بیانیہ اسمبلی کے اندر بیان کر رہے ہیں ۔ وزیر اعظم کے واضح بیان کے بعد میڈیا اور سیاست میں بیان بازی بند ہو جانی چاہیے تھی۔ نواز شریف نے ساری زندگی پاکستان کی بہتری کیلئے کام کیا، ملک کو ایٹمی طاقت بنایا،اندھیروں کو ختم کیا اور دہشتگردی کا خاتمہ کیا ہے۔

اگر پھر بھی کسی کو نواز شریف پر شک ہے تو قومی کمیشن بنا دیں جو تحقیقات کرے گا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نواز شریف کے بیان کی وضاحت اور تشریح کی گئی ہے۔ جو بات بھارت میں مدی کرتے ہیں وہی بات یہاں عمران خان کرتے ہیں جو کہ افسوسناک ہے۔ نواز شریف کو اپنے خلاف بیانات پر شدید دکھ ہے، ان کو پاکستان کی عوام نے 3مرتبہ ووٹ دیکر وزیر اعظم بیانا ہے۔

اگر نواز شریف نے پاکستان کے مفادات کو بیچنا ہوتا تو وہ کبھی بھی بین الاقوامی دبائو کے باوجوش ایٹمی دھماکے نہ کرتے۔ عمران خان کو الزام خان اسی لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بولتے پہلے ہیں اور سوچتے بعد میں ہیں۔ عمران خان کا سیاستمیں آنا بدقسمتی ہے، ان کے ہاتھ جو بھی بات آتی ہے وہ اس کو بنا کسی ثبوت کے بول دیتے ہیں جس سے ملک کا نقصان ہوتا ہی