جاپان کی سالانہ سفارتی رپورٹ میں شمالی کوریا پر جوہری ہتھیار ختم کرنے پر زور

بدھ مئی 10:50

ٹوکیو ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) جاپان کی وزارتِ خارجہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ شمالی کوریا سے اٴْس کے وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار اور بیلسٹک میزائلوں کا خاتمہ کروانے کیلئے جاپان، امریکا اور جنوبی کوریا کو اپنی پالیسیاں زیادہ مربوط کرنی چاہیئں۔جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارتِ خارجہ نے کابینہ کے ایک اجلاس میں 2018ء کی ڈپلومیٹک بِلٴْو بٴْک جاری کی ہے۔

اِس رپورٹ میں شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے جاپان کی موجودہ سلامتی صورتحال کو دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعدغیرمحفوظ ترین حالتوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔اِس میں اٴْن طریقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے جاپان نے شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بین الکوریائی تعلقات رواں سال بہتر ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ ماہ کیآخر میں شمالی اور جنوبی کوریا کی سربراہ ملاقات ہوئی۔

اِس رپورٹ میں امریکا اور شمالی کوریا کے برسرِ اقتدار رہنماؤں کے مابین اگلے ماہ ہونے والی پہلی سربراہ ملاقات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے مکمل خاتمے کے حصول کیلئے جاپان، امریکا اور جنوبی کوریا کو چاہیئے کہ وہ اِس موقع کو مِل کر کام کرنے کیلئے استعمال کریں۔ چین کے حوالے سے اِس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلقات بہتر بنانے کے اقدامات گزشتہ سال تیز ہوئے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جاپان کو چین کے ساتھ تعلقات میں تمام شعبوں میں مستحکم بہتری کے حصول کیلئے کام کرنا چاہیئے۔

متعلقہ عنوان :