تحریک انصاف کا نہ کوئی کردار ہے، نہ نظریہ، تحریک انصاف پگڑی اچھال اور گندی زبان والی پارٹی ہے۔نوازشریف

احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف کیس آخری مرحلے میں داخل‘عدالت کے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 342 کے تحت کاروائی شروع کرنے سے نوازشریف کی مشکلات میں اضافہ ہوگا-قانونی ماہرین

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ مئی 11:15

تحریک انصاف کا نہ کوئی کردار ہے، نہ نظریہ، تحریک انصاف پگڑی اچھال اور ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 مئی۔2018ء) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا نہ کوئی کردار ہے، نہ نظریہ، تحریک انصاف پگڑی اچھال اور گندی زبان والی پارٹی ہے۔احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر نواز شریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ایمپائر کی انگلی کی طرف دیکھنے والی پارٹی ہے۔

صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ تحریک انصاف نے آپ کے قومی کمیشن بنانے کی تجویز مسترد کر دی ہے، جس کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف کا نہ کوئی کردار ہے، نہ نظریہ۔ تحریک انصاف پگڑی اچھال پارٹی ہے اور گندی زبان والی پارٹی ہے۔ ان میں ووٹ کو عزت دینے کی کوئی بات نہیں۔انہوں نے کہا کہ اچھا ہوا جو پختونخواہ میں ان کی حکومت تھی، پختونخواہ کے عوام نے ان کی تبدیلی دیکھ لی۔

(جاری ہے)

خیبر پختونخواہ میں کوئی کام نہیں ہوا۔ نوازشریف نے کہا کہ ہمارے خلاف دھرنے دلوائے گئے، ان دھرنوں میں بڑے بڑے کردار ہیں، ان دھرنوں میں ایک عمران خان ، طاہرالقادری اور کچھ اور کردار ہیں، گھبرانے والا نہیں ہوں وقت آنے پر کرداروں کے نام لوںگا۔دوسری جانب احتساب عدالت اسلام آباد نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں  کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 342 کے تحت ملزمان کا بیان جمعہ کو ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔احتساب عدالت کے فیصلے کے مطابق ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں ملزمان سابق وزیراعظم نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا بیان جمعہ کو ریکارڈ کیا جائے گا۔ملزمان کو آج اڑھائی بجے تک سوالنامہ دے دیا جائےگا۔ العزیزیہ ریفرنس میں واجد ضیا پر جرح پیر تک ملتوی کردی گئی۔

احتساب عدالت کی جانب سے ملزمان کو سوالنامہ بھیجے جانے کے فیصلے کے ساتھ ہی احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف جاری ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت آخری مراحل میں داخل ہوگئی۔۔عدالت نے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 342 کے تحت یہ فیصلہ کیا، جس میں ملزمان کو حتمی فیصلہ سنائے جانے سے قبل اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔اس ضمن میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر، نواز شریف،، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن محمد صفدر کے بیانات حاصل کرنے کے لیے مذکورہ دفعہ کے تحت سوال نامہ ترتیب دیں گے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے استغاثہ کے سربراہ سردار مظفر عباسی نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کیونکہ استغاثہ کی جانب سے تمام گواہان پیش کر کے جرح کی جاچکی ہے اس لیے اب سی آر پی سی کی دفعہ 342 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔تاہم شریف خاندان کے وکلا نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ عدالت کی جانب سے مذکورہ کارروائی دیگر 2 ریفرنسز، العزیزیہ اور فیلگ شپ انویسمنٹ میں بھی استغاثہ کے گواہان کے بیانات حاصل کرنے کے بعد کی جائے۔

بعدازاں نواز شریف کے وکلا نے تینوں ریفرنسز کی اکھٹا سماعت کرنے اور اس کے تحت مشترکہ فیصلے کے لیے دی جانے والی درخواست کی جانب توجہ دلائی جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے 4 دسمبر 2017 کو رد کردیا تھا۔درخواست میں نواز شریف کے وکلا کی جانب سے ان خدشات کا اظہارکیا گیا تھا کہ تینوں ریفرنسز میں گواہان کے الگ الگ بیانات لینے اور ان پر جرح کیے جانے سے ہمارا دفاع کمزور پڑ جائے گا۔

ان خدشات پر اسلام آباد ہائی کورٹ بینچ نے درخواست گزار کو تینوں مقدمات میں استغاثہ کے گواہان کی مشترکہ جرح کے لیے علیحدہ سے درخواست دینے کی ہدایت کی تھی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے کیس کے دوران شریف خاندان کا دفاع انتہائی کمزور نظرآیا ہے اسی وجہ سے ان کے وکلاءاور شریف خاندان کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 342 کی کاروائی میں تاخیری حربے استعمال کریں گے -سی آرپی سی342کی کاروائی میں نہ صرف ملزم کو صفائی کا آخری موقع دیا جاتا ہے بلکہ ملزم کو ایک خلف نامہ بھی عدالت میں داخل کروانا پڑتا ہے کہ اس کے فراہم کردہ تمام دستاویزات اور ریکارڈکروائے گئے بیانات اور گواہان درست ہیں -ماہرین کے مطابق یہ مرحلہ شریف خاندان کے بہت نازک ہے کیونکہ ابھی تک ان کی جانب سے دفاع میں کوئی بھی ٹھوس ثبوت ‘دستاویز یاگواہ پیش نہیں کیا جاسکا جس سے ان کے موقف کی تائید ہوتی ہو-