بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ،ْاسلام آباد ،ْ پنجاب ،ْ کے پی کے اور کشمیر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع

بجلی کے بریک ڈاؤن سے سندھ اور بلوچستان کے علاقے متاثر نہیں ہوئے ،ْ ترجمان پاور ڈویژن بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی ،ْ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری

بدھ مئی 13:25

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) تربیلا، منگلا اور دیگر پاور پلانٹس میں فنی خرابی کے باعث ملک میں ایک مرتبہ پھر بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوا جس کے نتیجے میںوفاقی دارالحکومت اسلام آباد ،ْ صوبہ پنجاب ،ْ صوبہ خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔ ترجمان پاور ڈویژن نے یہ دعویٰ کیا کہ بجلی کے بریک ڈاؤن سے سندھ اور بلوچستان کے علاقے متاثر نہیں ہوئے تاہم پاور پلانٹس میں خرابی کے باعث دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

ترجمان کے مطابق پاور پلانٹس میں خرابی سے 4 ہزار میگا واٹ بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تاہم ترجمان نے دعویٰ کیا کہ تربیلا، منگلا اور دیگر پلانٹس سے بجلی بحال کردی گئی ہے ،ْ بجلی کی فراہمی پر کام تیزی سے جاری ہے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار 12 ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے ۔دوسری جانب بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث اسلام آباد میں واقع پارلیمان ہاؤس کو بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی تاہم پارلیمان کے کچھ فلورز کو متبادل ذرائع سے بجلی کی فراہمی کی گئی۔

ذرائع کے مطابق اچانک بجلی غائب ہونے پر ہسپتالوں، سکولوں اور دفاتر میں اندھیرا چھا گیا اور روز کے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ دوسری جانب بجلی بند ہونے کے باعث ملازمین دفاتر میں اندھیرے میں کام کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا تھا کہ بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی کیونکہ اس طرح کا واقعہ پہلے بھی رونما ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی بحران سے متعلق وزارت کے ترجمان کی جانب سے بیان دے دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ رواں ماہ ملک میں یہ بجلی کا دوسرا بڑا بریک ڈاؤن ہے، اس سے قبل یکم مئی 2018 کو نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی اہم ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے سے ملک میں بجلی کا بڑا بحران پیدا ہوگیا تھا۔اس ٹرانسمیشن لائن کے ٹرپ ہونے سے سسٹم سے 5 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی، جس کے باعث بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرگیا تھا۔

Your Thoughts and Comments