غزہ میں مظاہرین کا قتل عام قابل مذمت ہے،عالمی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ

سلامتی کونسل پر دہرا معیار اپنانے کا الزام،اسرائیلی سلامتی کو خطرہ،اس لیے دفاع کا حق ہے،امریکی مندوب

بدھ مئی 13:46

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) نیویارک میں سلامتی کونسل کے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی نے فلسطینیوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے مندوب نیکولائے ملاڈینوف نے کہا کہ اسرائیلی فوج کا نہتے فلسطینیوں کے خلاف ہلاکت خیز حربے استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوموار کے روز غزہ میں فلسطینی مظاہرین کا بے گناہ قتل عام کیا گیا۔یو این مندوب کا کہنا تھا کہ غزہ کے مظاہرین چھ ہفتے سے اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

غزہ کے عوام جیل کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کی بات سننا ہماری ذمہ داری اور ان کی مشکلات کا احساس ہمارا فرض ہے۔ یہ پہلے ہی کئی جنگوں کا سامنا کر چکے ہیں۔

انہوں نے غزہ کی پٹی میں بجلی،، صحت اور دیگر شعبوں میں درپیش مشکلات کے فوری حل کی ضرورت پربھی زور دیا۔ملاڈینوف کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے مظاہروں میں شدت کی ایک وجہ امریکا کی طرف سے تل ابیب سے اپنے سفارت خانے کی القدس منتقلی بھی ہے۔ فلسطینی اس اقدام کے خلاف ہیں اور مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر غزہ کی پٹی میں تشدد کا سلسلہ روکا نہ گیا تو خطے میں ایک نئی جنگ بھڑک سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند ہفتوں کیدوران اسرائیلی فوج کے ہاتھوں طاقت کے استعمال کے باعث 13 بچوں سمیت 100 سے زاید فلسطینی شہری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔اجلاس میں کویت کے سفیر نے بھی غزہ کی پٹی میں فلسطینی مظاہرین کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی طرف سے غزہ میں قتل عام کی مذمت پر مبنی بیان جاری نہ کرنے پر افسوس کا بھی اظہار کیا۔

اس موقع پر امریکا کی مندوب نیکی ہالے نے کہا کہ سلامتی کونسل پر دہرا معیار اپنانے کا الزام بے بنیاد ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے زیرتسلط شام کیوادی گولان کے علاقے میں ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی پر غزہ میں پرتشدد مظاہروں کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے حسب سابق اسرائیلی ریاست کا دفاع کیا اور کہا کہ فلسطینی سرحد عبور کرنا چاہتے ہیں جس کے باعث اسرائیل کو اپنی سلامتی کا خطرہ لاحق ہے۔ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے۔