موجودہ اسمبلی نے گزشتہ پانچ سالوں میں نمایاں قانون سازی کرنے کے علاوہ کئی دیگراہم سنگ میل عبور کیے ،ْسپیکر قومی اسمبلی

بدھ مئی 13:52

موجودہ اسمبلی نے گزشتہ پانچ سالوں میں نمایاں قانون سازی کرنے کے علاوہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان کی 14ویں قومی اسمبلی 2013 کے انتخا بات کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی اور 31 مئی2018کو اپنی مدت مکمل کر نے جا رہی ہے ،ْگزشتہ 5سالوں کے دوران نمایاں قانون سازی کے علاوہ کئی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں ،ْ بدھ کو پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر ای)کی جانب سے ان کے اعزاز میں دیے جانے والے الوداعی استقبالیہ سے خطاب کے دوران موجودہ اسمبلی کی نمایاں کامیابیوں کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ موجودہ اسمبلی نے 136قوانین منظور کیے جن میں 49 انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن میں قر آن پا ک کی لا زمی تعلیم کا بل ، گواہ کے تحفظ، سیکورٹی اور فوائدکا بل،معلومات تک رسائی کا بل، انتخابی اصلاحات کا بل، پبلک انٹرسٹ ڈسکلوز بل، او رہندو شادی ایکٹ جیسے قوانین شامل ہیں۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلی نے چار آئینی آرٹیکلز بھی منظور کیے جن میں سے دو انسداد دہشتگردی اور دو انتخابی نظام بہتر بنانے سے متعلق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار سات قوانین مشترکہ اجلاس میں منظور کیے جن میں چار پرائیویٹ ممبر بل شامل ہیں علا وہ ازیں مو جو دہ اسمبلی نے مجمو عی طور پر سولہ پرائیویٹ ممبر بل پاس کیے۔

سپیکرنے کہا کہ 2014کے دھرنے کے دوران تحریک انصاف کے ممبران اور بعد ازاں ایم کیو ایم کے ممبران نے اپنے استعفے جمع کروائے لیکن قومی اسمبلی کے کسی بھی ممبر کو استعفو ں کی وجہ سے اپنی نشست سے محروم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اہمیت کے حامل تمام معاملات پرایو ان میں سیر حاصل بحث کی گئی جس میں حزب اختلاف کو اپنا نقظہ نظر پیش کرنے کا بھر پور موقع فراہم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ موجود ہ اسمبلی کی آئینی مدت کے دوران 6بجٹ پیش کیے گئے جو اس اسمبلی کا ایک منفرد اعزاز ہے۔سپیکر نے کہا کہ قومی اسمبلی کی 34قائمہ کمیٹیوں جن میں سے 10کی سر براہی حزب اختلاف کو دی گئی کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی۔ انہوں نے کہا قائد حزب اختلاف کی سربراہی میں کام کرنے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو مزید فعال بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے کے علاوہ پاک چین اقتصادی راہداری کمیٹی اور نیشنل سیکورٹی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

گزشتہ پانچ سالوں میں اٹھائے جانے والے اہم اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں کام کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور کارکردگی میں اضافے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے گئے جن میں اسٹرٹیجک پلان ،لجسلیٹیو ڈرافٹنگ کونسل کا قیام ملک کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں پارلیمانی سٹڈیز کے پروگراموں کو متعارف کرانا اور سیکرٹریٹ کے عملے کی استعداد کا ر میں اضا فے کیلئے سیکر ٹر یٹ کی سطح پر تر بیتی پروگراموں کا انعقاد شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہے جس میں پائیدار تر قی کے اہداف کے حصول کیلئے مکمل طور پر ایک فعال سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا ہمارے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہے جسے مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا۔سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں پہلی دفعہ توانائی آڈٹ عمل میں لایا گیا جس سے ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے میں مدد ملی۔

ہیومین ریسورس پرگرامز کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سپیکر نے بتایا کہ سپیکر کا آفس سنبھالنے کے بعد ملازمین کی تر قی،ریٹا ئر منٹ اور دیگر معا ملا ت کو دیکھنے اور آئندہ کے لا ئحہ عمل بنا نے کے لیے سیکر ٹریٹ میں ہیو من ریسورس ڈپا ر ٹمنٹ قائم کیا۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کی تر قی کو سنیارٹی کم فٹنس کے طریقہ کا ر کے تحت یقینی بنا یا گیا تا کہ کسی کی حق تلفی نہ ہوسکے۔

سپیکر نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں بھرتی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے انہو ں نے سیکر ٹر یٹ میں بھرتی کے اپنے تمام اختیارات (FPSC )فیڈرل پبلک سر وس کمیشن کو تفویض کر دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجا گر کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں دنیا کی دیگر پارلیمانوں کے ساتھ رابطوں کو فروغ دینے کیلئی88 فرینڈشپ گروپس تشکیل دیئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سالوں میں کثیر تعداد میں پارلیمانی وفود نے اپنے سپیکروں/چیئر مینوں کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری پارلیمانی سفارت کا ری کی ایک اہم کا میا بی 2015کی دولت مشترکہ کی پارلیمانی کانفرنس کے انعقاد کیلئے پاکستان کا انتخاب اور اس کے سپیکر کو متفقہ طور پر دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کا صدر منتخب کرنا تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے کشمیر پر اصولی موقف کی وجہ سے دولت مشترکہ کانفرنس کے اسلام آباد میں انعقاد سے معذرت کی کیونکہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر اسمبلی کے سپیکر کو کانفرنس میں مدعو کرنے کا مطا لبہ کر رہا تھا جوپاکستان کے لیے نا قا بل قبول تھا۔سپیکر نے کہا کہ انہوں نے ہر بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو بھر پو ر انداز میں اٹھایا اور مسلم ممالک کی پارلیمانی یونین میں مسئلہ کشمیر پر تین دفعہ مشترکہ قرار داد منظور کرانے میں کامیاب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے نصف درجن سے زائد قراردادیں منظور کیں جن میں وادی کشمیر میں بھارتی افواج کی طر ف سے ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عا لمی سطح پر ا جا گر کرنے کے لیے انہو ں نے 196ممالک کی پارلیمانوں کے سپیکر وں کو خطوط لکھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے جنوری 2017میں کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت اور کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت کے منصفانہ حل کے تلاش کے لیے دو روزہ بین الاقوامی پارلیمانی سیمینار منعقد کرایا۔قومی اسمبلی کے زیر اہتمام منعقد کرائی جانے والی بین الاقوامی کا نفرنسوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالو ں کے دوران مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی پارلیمانی سیمینار کے انعقاد کے علاوہ پانچ بین الاقوامی پارلیمانی کانفرنسز منعقد کرائی گئیں جن میں دہشت گردی کے چیلنجز اور علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے دسمبر 2017 میں ہونے والی پہلی سپیکر ز کانفرنس جس میں پاکستان کے علا وہ چین،افغانستان،تر کی ،روس اور ایران کے سپیکروں نے شر کت کی جو خطے کی خوشحالی اور تر قی کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی، 6سے 9مئی 2018کو 6ممالک کی سپیکرز کانفرنس کی ڈرافٹنگ کمیٹی کا اجلاس، ترقی کیلئے امن اور ہم آہنگی کے موضوع پر اگست 2016 میں سارک ینگ پارلیمنٹیر ین (SYPC) کانفرنس،فر وری 2016میں ماں اور بچے کی غذائی قلت کے مو ضوع پر ہو نے والی قومی پا رلیما نی کا نفرنس اور جمہو ریت کے استحکا م اور معاشرتی انصاف میں خواتین اراکین پا رلیمنٹ کے کر دار کے مو ضوع پر ہو نے والی بین الاقوامی کا نفرنس جس میں 13ممالک کی خواتین اراکین پا رلیمنٹ نے شرکت کی شامل ہیں۔

سپیکر نے کہا کہ پر یس گیلری کسی بھی ملک کی پا رلیمنٹ کا اہم حصہ ہو تی ہے اور پا رلیمنٹ کی کا روائی کو رپو رٹ کر نے والے صحافی پارلیمنٹ میں ہو نے والی قا نون سازی اور عوامی نمائند وں کی کا رکر دگی کو عوام تک پہنچانے میں اہم کر دار ادا کر تے ہیں۔ انہو ں نے گزشتہ 5 سا لو ں کے دوران پا رلیمانی ر پور ٹر کی جا نب سے بھر پور تعاون اور مو جو دہ اسمبلی کے اراکین کے اعزاز میں استقبالیہ دینے پر پارلیما نی رپور ٹرز ایسو سی ایشن کا شکریہ ادا کیا۔