لاوارث بچوں کے تحفظ اور سرپرستی کے قوانین کو موثر بنانے کیلئے تجاویز مرتب کر لی گئیں،ظفر اقبال کلانوری

بدھ مئی 16:20

لاہور16 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ کی مصالحتی کمیٹی کے ممبر معروف قانون دان میاں ظفر اقبال کلانوری نے کہا ہے کہ بچوں کو گود لینے کا قانون ہی موجود نہیں،لاوارث بچوں کے تحفظ،تعلیم وتربیت اور پرورش کو یقینی بنانے کے علاوہ،بچوں کی سرپرستی کے قوانین کو موثر بنانے کیلئے تجاویز مرتب کر لی گئی ہیں، بدھ کو لاہور میں نابالغ بچوں کے قوانین سے متعلق سیمینار سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بچوں کو گود لینے کا قانون سرے سے موجود ہی نہیں،قانون کی عدم موجودگی کی وجہ سے والدین کی شفقت سے محروم ہونے والے بچے محرومی اور بے بسی کی زندگی گزارتے ہیں،انہوں نے کہا کہ گارڈین عدالتوں کو چلڈرن کمپلیکس میں منتقل نہ کیا گیا تو والدین کی لڑائی کے شکار بچے نفسیاتی امراض کا شکار ہو کرمستقبل میں ذمہ دار شہری بننے کے اہل نہیں رہیں گے،انہوں نے کہا کہ لاوارث بچوں کے تحفظ کیلئے قوانین میں مزید بہتری لانے،بچوں کو گود لینے،بچوں کی ملاقات کیلئے بہتر ماحول کی فراہمی اور گارڈین اینڈ ایوارڈ ایکٹ میں مناسب اور موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ترامیم کیلئے تجاویز مرتب کر لی گئیں ہیں،تقریب سے حنا جیلانی،چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے افسران،ایس او ایس ویلج اور ایدھی ہومز کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا،انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والی لڑائیاں بچوں کامستقبل تاریک کر رہی ہیں،علیحدگی کے شکار میاں بیوی کواپنے بچوں سے گھنٹوں ملاقات کی بجائے مناسب ماحول میں ملاقات کی اجازت ملنی چاہئیے۔