فاٹا انضمام کے معاملے پر ریفرنڈم کرایا جائے ،ْمولانا فضل الرحمن کا مطالبہ

فاٹا کے عوام انضمام کے حق میں ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ،ْجب تک آئین کا آرٹیکل 247 فعال ہے پارلیمنٹ فاٹا کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی ،ْاسمبلی میں اظہار خیال 18ء کے الیکشن میں فاٹا میں صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی کے الیکشن میں کوئی تبدیلی نہیں لا رہے ،ْوفاقی وزیر عبد القادر بلوچ فاٹا کے لوگوں کو اپنے حق میں قانون سازی کا اختیار ہونا چاہیے‘ فاٹا میں انضمام کے بعد ترقیاتی عمل جاری رکھنا چاہیے ،ْ پیپلز پارٹی فاٹا انضمام کے حوالے سے ہمیں کسی کی ڈکٹیشن میں نہیں آنا چاہیے ،ْ تحریک انصاف کے رکن علی محمد خان کا بیان فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے پاکستان اور فاٹا میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ،ْآفتاب شیر پائو

بدھ مئی 16:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) ایم ایم اے کے سربراہ اور جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام کے معاملے پر ریفرنڈم کرایا جائے ،ْ فاٹا کے عوام انضمام کے حق میں ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ،ْجب تک آئین کا آرٹیکل 247 فعال ہے پارلیمنٹ فاٹا کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بجٹ میں حکومت نے ملکی معیشت کی ترجیحات کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے جو لائق تحسین ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر کوئی بین الاقوامی ادارہ ایسا قانون بنائے جو پاکستان کے آئین کے منافی ہو اور ہم اس کی حمایت پر مجبور ہوں تو یہ غلامی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف گزشتہ 15 سالوں سے جنگ ہو رہی ہے، ہمیں آپریشن کے طریقہ کار پر اختلاف تھا تاہم ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہم نے راستہ نہیں روکا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے معاملہ سیفران کی وزارت اور سیفران کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا مگر جب کمیٹی میں تاخیر ہوئی تو اسے قانون و انصاف کی کمیٹی کے سپرد کیا گیا یہ پارلیمانی روایات کے منافی تھا۔

قانون و انصاف کمیٹی کو سیفران کی کمیٹی کے معاملے کو ڈیل کرنے کا حق نہیں ہے، اس پر ہم احتجاج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں فاٹا کی صورتحال پر بحث ہوئی تھی‘ ہم نے اجلاسوں میں بھی شرکت کی اور یہ طے پایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے دائرہ کار کو توسیع دینے کا بل منظور کیا جائے گا جبکہ پانچ سال تک باقی امور نہیں چھیڑے جائیں گے بدقسمتی سے اس وعدے کی تکمیل نہیں کی جارہی اور دوبارہ وہی چیزیں سامنے لائی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم قوم اور قبائل کو آپس میں الجھا رہے ہیں، یہ ایسا مسئلہ ہے جو ملک کی داخلی اور خارجی صورتحال پر اثرانداز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص علاقے کئی ممالک میں موجود ہیں اور احسن طریقے سے چل بھی رہے ہیں، ہم نے ستر برسوں سے پاکستان کے ساتھ مدغم ریاستوں سوات‘ دیر ‘ چترال اور امب کو پاٹا کے تحت رکھا ہوا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ قبائلی عوام پر مسلط کردہ فیصلے کو قبائلی قبول کریں گے‘ اس سے مشکلات پیدا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ انتخاب جیتنا اتنا اہم نہیں جتنا ملک کا تحفظ ہے، اگر قبائلی عوام کی مرضی کے خلاف فیصلہ کیا گیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کریگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم انضمام کے خلاف نہیں، اگر فاٹا کے عوام انضمام کے حق میں ہیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا تاہم فیصلہ سازی کے عمل میں ان کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آئین کا آرٹیکل 247 فعال ہے پارلیمنٹ فاٹا کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی، چھ ماہ قبل جب حلقہ بندیوں کے حوالے سے ترمیم لائی گئی تھی تو اس وقت بھی واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اس کا اطلاق فاٹا پر نہیں ہوگا۔

بعد ازاں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ایم ایم اے ملک میں انقلاب لائیگی اور اس کی شروعات لاہور جلسے ہو چکی ہے تاہم میڈیا نے اسے نہیں دکھایا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کے دور میں سی پیک منصوبہ انقلابی اقدام ہے جس کے دور رس نتائج مرتب ہوںگے۔ انہوں نے کہاکہ ہر حکومت اچھائی کی بنیاد پر بنتی ہے لیکن اس میں غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔

موجودہ حکومت سے بھی بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں۔ فاٹا اصلاحات پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عذرا فضل نے کہا کہ حکومت کو وعدہ پورا کرنا چاہیے‘ فاٹا کو انصاف ملنا چاہیے۔ فاٹا کے لوگوں کو اپنے حق میں قانون سازی کا اختیار ہونا چاہیے‘ فاٹا میں انضمام کے بعد ترقیاتی عمل جاری رکھنا چاہیے۔ تحریک انصاف کے رکن علی محمد خان نے کہا کہ فاٹا انضمام کے حوالے سے ہمیں کسی کی ڈکٹیشن میں نہیں آنا چاہیے۔

پی ٹی آئی ‘ مسلم لیگ (ن) ‘ پیپلز پارٹی‘ جماعت اسلامی اور اے این پی فاٹا کے انضمام کے حق میں ہیں‘ فاٹا کے عوام فاٹا کا انضمام چاہتے ہیں۔ وہ بلدیاتی نظام چاہتے ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں میں رکنیت چاہتے ہیں۔ ہم حکومت کا فاٹا کے عوام کو پشاور ہائی کورٹ تک رسائی دینے پر شکر گزار ہیں۔ ہم فاٹا کا انضمام چاہتے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی اپنے سیاسی عزائم کو پس پشت ڈال کر فاٹا کے انضمام کی مخالفت نہ کریں۔

جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ فاٹا کا انضمام آخری مرحلہ میں ہے۔ انشاء اللہ اس کی تکمیل ہونے والی ہے۔ فاٹا میں جو احساس محرومی ہے انضمام سے اس کا ازالہ ہوگا۔ جماعت اسلامی کی اس حوالے سے طویل جدوجہد ہے۔ ہمارا موقف اور مطالبہ ہے کہ فاٹا کو پاکستان کے ساتھ ضم کیا جائے۔ حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر نہ کرے۔

اگر فاٹا کا انضمام کرنا چاہتے ہیں تو آئین کے آرٹیکل 247 کی چھتری ہٹانا ہوگی۔ اس کے بغیر فاٹا کے صوبائی اسمبلیوں کے ارکان بااختیار ہوں گے۔ ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین نے کہا کہ فاٹا کے 30 لاکھ لوگوں کے لئے ایف سی آر جیسے کالے قانون کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ قبائلی علاقوں میں تعلیم‘ صحت کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ہم فاٹا کے انضمام کے خلاف نہیں ہیں تاہم فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے ہونا چاہیے۔

ہم فاٹا کو انتظامی یونٹ بنانے کے حق میں ہیں۔ اس سے وفاق پاکستان مضبوط ہوگا۔ سندھ کے شہری عوام بھی پریشان ہیں۔قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کے لئے ایوان کی کمیٹی نے تمام ایجنسیوں کا دورہ کیا اور اکتوبر 2016ء میں رپورٹ پیش کی۔ اس کمیٹی نے سٹیٹس کو برقرار رکھنے ‘ علیحدہ صوبہ اور انضمام کی صورت میں تین آپشن کی تجاویز دیں۔

اس ایوان میں اس پر تفصیلی بحث ہوئی جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ ہماری توقع تھی کہ معاملات آگے کی طرف جائیں گے لیکن اس میں رکاوٹیں سامنے آرہی ہیں۔ وزیراعظم نے اس ایوان میں وعدہ کیا تھا کہ حکومت اصلاحات کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچائے گی اور یہ موجودہ حکومت کا کریڈٹ بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی رپورٹ اس ایوان کا اثاثہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے حوالے سے ہم پر کسی نے دبائو نہیں ڈالا۔ وہاں پر سٹیٹس کو رکھنے کے حامیوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اکثریت انضمام چاہتی ہے۔ آفتاب شیرپائو نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا ایک طریقہ کار موجود ہے‘ انشاء اللہ فاٹا خیبر پختونخوا کا حصہ بنے گا اور وہاں صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں بھی ہوں گی ،ْاگر مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں یہ کام ہوتا ہے تو یہ پاکستان اور فاٹا کے لئے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

فاٹا سے رکن قومی اسمبلی بلال الرحمان نے کہا کہ انضمام کی بجائے ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام قبائلی ارکان نے فاٹا اصلاحات کی حمایت کی تھی۔ پارلیمانی کمیٹی کو فاٹا کے عوام کی اکثریت نے بتایا تھا کہ ہم مرکزی دھارے میں آنا چاہتے ہیں‘ بعد میں حکومت کے ساتھ مذاکرات میں قبائل کے لئے پیکج کی بات ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی دھارے میں آنے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف انضمام پر توجہ مرکوز کی جائے۔ فاٹا کو الگ صوبہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان اور دیگر اراکین کے نکات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ 2018ء کے الیکشن میں فاٹا میں صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی کے الیکشن میں کوئی تبدیلی نہیں لا رہے۔

2018ء کے عام انتخابات کے ایک سال بعد وہاں پر بلدیاتی انتخابات ہوں گے۔ ہم نے پانچ سال بعد فاٹا کے انضمام کی بات نہیں کی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ پانچ سال کے اندر کریں گے‘ تین سال گزر گئے ہیں۔ جب تک فاٹا میں مکمل انفراسٹرکچر نہیں بن جاتا ہے یہ عمل شروع نہیں ہو سکتا۔ ہمارے پاس اس کام کے لئے 10 ارب روپے پڑے ہیں۔ فاٹا کے 98.5 فیصد بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔

25 لاکھ بے گھر افراد میں سے صرف ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی اپنے گھروں میں منتقلی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حوایل سے ہر ایجنسی میں جرگے کئے۔ مولانا فضل الرحمان نے 2012ء میں جس جرگے کی بات کی وہ انہوں نے اپنی پارٹی پلیٹ فارم سے کیا ہے۔ اس جرگے کی رپورٹ پر تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط موجود ہیں‘ سوائے جے یو آئی (ف) کے ارکان کے باقی تمام جماعتوں کے ارکان فاٹا انضمام کے حق میں ہیں۔

فاٹا کے انضمام کا پیکج ابھی تک قائم ہے۔ اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ فاٹا کی آبادی کے تناسب سے تین فیصد وفاقی محاصل سے حق بنتا ہے۔ فاٹا پر سو ارب روپے ہر سال خرچ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں۔ فاٹا اصلاحات سے ان تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم کا سہارا لے کر ایم کیو ایم بات نہ کرے اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔

ایم کیو ایم فاٹا کا سہارا لے کر بات نہ کرے کھلے انداز میں کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی قسم کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں اتحادیوں کی عزت کرنی چاہیے تاہم بطور حکومت ہم اپوزیشن اور سیاسی قوتوں کی رائے کو مسترد نہیں کر سکتے۔ یہ حکومت کی مجبوری ہے۔ اس وقت فاٹا کی اسمبلیوں میں نمائندگی اور ایف سی آر کے خاتمہ کے حوالے سے کام ہو رہا ہے۔