ایم کیو ایم کی طرف سے کٹوتی کی تحاریک ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کر دیں

بدھ مئی 16:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) قومی اسمبلی نے وزارت دفاع اور خزانہ سمیت مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے مزید 34 مطالبات زر کی منظوری دیدی ہے۔

(جاری ہے)

بدھ کو قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے یکے بعد دیگرے وزارت دفاع‘ وزارت خزانہ‘ اقتصادی امور‘ شماریات‘ کیڈ‘ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن‘ ہوا بازی‘ پٹرولیم‘ فیڈرل پبلک سروس کمیشن‘ وزیراعظم آفس‘ سرمایہ کاری بورڈ‘ وزیراعظم معائنہ کمیشن‘ ایٹمی توانائی کمیشن‘ کنٹرولر جنرل آف اکائونٹس‘ ایچ ای سی‘ قومی تاریخ و ادبی ورثہ‘ خارجہ امور‘ سمندر پار پاکستانیوں سمیت دیگر وزارتوں اور ڈویژنز کے یکے بعد دیگرے 34 مطالبات زر ایوان میں پیش کئے جن میں سے بعض پر ایم کیو ایم کی طرف سے کٹوتی کی تحاریک پیش کی گئیں جو ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کردیں۔

جماعت اسلامی پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے اپنی کٹوتی کی تحاریک واپس لے لیں۔ اس طرح قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے 34 مطالبات زر کی منظوری دے دی ہے جبکہ گزشتہ روز قومی اسمبلی نے 92 کی منظوری دی تھی۔ 25 مطالبات زر کی منظوری کا عمل (آج) جمعرات کو ہوگا۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر (آج) جمعرات کی صبح ساڑھے دس بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔