فاٹا کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی سے متعلق 30 ویں آئینی ترمیم کی تفصیلات سامنے آگئیں

آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 106 کی ذیلی دفعہ میں ایک میں ترمیم کی جائے گی

بدھ مئی 17:26

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) فاٹا کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی سے متعلق 30 ویں آئینی ترمیم کی تفصیلات سامنے آگئیں ،ْآئینی ترمیم کے بل کی حاصل ہونے والی کاپی کے مطابق آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 106 کی ذیلی دفعہ میں ایک میں ترمیم کی جائے گی ،ْبل کے مطابق ترمیم کے تحت صوبائی اسمبلی کے پی کے میں فاٹا کو نمائندگی دی جائے گی ،ْ آئینی ترمیم کے تحت کے پی کے اسمبلی کی نشستوں میں تبدیلی ہوگی۔

(جاری ہے)

خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشستیں 124 سے بڑھا کر 147 کردی جائیں گی، جنرل نشستوں کو 99 سے بڑھا کر 117 کیا جائے گا، خواتین کی نشستیں 22 سے بڑھا کر 26 کی جائیں گی ،ْغیرمسلم نشستیں 3 سے بڑھا کر 4 ہوں گی۔بل کے مطابق آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 106 میں 1 اے کا اضافہ بھی کیا جائے گا، اضافی ذیلی دفعہ کے ذریعے فاٹا کو صوبائی اسمبلی کے پی میں 18 جنرل نشستیں ملیں گی۔۔فاٹا کو صوبائی اسمبلی میں 4 خواتین اور ایک غیرمسلم نشست بھی ملے گی، قومی اسمبلی میں فاٹا کی 12 نشستیں کے پی کے میں ضم ہوجائیں گی، جس کے بعد خیبر پختونخوا کی مجموعی نشستیں 48 سے بڑھ کر60 ہوجائیں گی۔