تحریک حریت کی بھارتی وزیر اعظم کے دورہ کشمیر سے پہلے کشمیر ی عوام کو یرغمال بنائے جانے کی مذمت

نو جوانوں اور بزرگوں کو تھانوں میں بلا کر گرفتار کرنا انتقامی کارروائی ہے، ترجمان تحریک حریت

بدھ مئی 17:28

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میںتحریک حریت جموں وکشمیر نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ کشمیر سے پہلے کشمیر ی عوام کو یرغمال بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی پولیس نے وادی کشمیرمیں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق تحریک حریت کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہا کہ حریت پسندوں کو تھانوں میںبلا کر گرفتار کیا جارہاہے اور کشمیری عوام کے لیے ہر آنے والا دن تکالیف ا ور مصائب سے پُر نظر آتا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بھارتی پولیس کشمیری عوام کو ہر مسئلے پر قربانی کا بکرا بنارہی ہے۔ اگر بھارت کے وزیر اعظم کو کشمیر کا دورہ کرنا ہے تو عوام سے بالعموم اور آزادی پسندوں سے بالخصوص کیوں انتقام لیا جارہا ہے اور انہیں جیلوں، تھانوں اور انٹروگیشن سینٹروں میں کیوں بند رکھا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کشمیر کو ایک بار پھر جیل خانے میں تبدیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ درجنوں نوجوانوں اور بزرگوں کو پولیس تھانوں پر بلا کر گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوںنے کہا کہ حاجن میںمعمر ماسٹر علی محمد اور عبدالحمید پرے کو بھی تھانے پر طلب کیا گیا ہے جبکہ یہ دونوں ڈھائی سال کے بعد گزشتہ ماہ ہی رہا ہوئے ہیں اور چند ہی دن گھر میں رہنے کے بعدان کو دوبارہ تھانے پر طلب کرنا انتقامی کارروائی ہے۔