سعد عزیز نے امریکی خاتون و ماہر تعلیم ڈیبرا لوبر کو پر حملے سے انکار کردیا

کسی تنظیم تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی ڈیبرا لوبر نامی کسی خاتون کو جانتا ہے،ملزم کا عدالت میں بیان

بدھ مئی 18:11

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت کے روبرو سانحہ صفورا میں سزایافتہ مجرم سعد عزیز نے امریکی خاتون و ماہر تعلیم ڈیبرا لوبر کو پر حملے سے انکار کردیا۔۔عدالت نے ملزم سعد عزیز کا بیان قلمبند کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔بدھ کو انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت کے روبرو سانحہ صفورا میں سزایافتہ مجرم سعد عزیز کے خلاف امریکی خاتون شہری و ماہر تعلیم ڈیبرا لوبر کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے سے متعلق دائر مقدمے کی سماعت ہوئی۔

عدالت میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سعد عزیز نے واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ ہی کسی تنظیم تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی ڈیبرا لوبر نامی کسی خاتون کو جانتا ہے۔۔ملزم سعد عزیر کا مزید کہنا تھا کہ انہیں 18 مئی 2015 کو سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے گھر سے اٹھایا اور پھر 19 مئی کو سندھ پولیس کے ایک افسر نے انکی گرفتاری کا دوعوی کیا اور 20مئی کو جھوٹے پولیس مقابلے میں معمار سے انکی گرفتاری ظاہر کی گئی۔

(جاری ہے)

ملزم سعد عزیز کا بیان میں مزید کہنا تھا کہ انکی گرفتاری کے 15 دن بعد جاوید نامی شخص سی ٹی ڈی کے سول لائنز میں واقع دفتر میں مسلسل آتا رہا،، اور پولیس نے شناخت پریڈ سے قبل ہی گواہ کو انکا چہرہ دیکھا جس پر اس نے شناخت پریڈ والے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو انکی شناخت کی۔۔۔عدالت نے ملزم سعد عزیز کا بیان قلمبند ہونے پر مقدمے کا فیصلہ محفوظ کیا۔

۔۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت ہر ڈیبرلوبر نے گواہی کے دوران ملزم سعد عزیز کو شناخت کرنے سے انکار کیا تھا۔۔۔امریکی خاتون پر حملے کا واقعہ اپریل 2015 میں پیش آیا تھا جہاں پولیس کے مطابق ملزمان کی فائرنگ سے امریکی خاتون ڈیبرا لوبر زخمی ہوئی تھی۔۔امریکی خاتون حملے کے وقت جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں وائس پرنسپل کے طور پر تعینات تھی۔