جامعہ بنوریہ عالمیہ کو وفاق کے سالانہ امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل

مدارس دینیہ نے پروپیگنڈوں کا جواب ہمیشہ اپنی کارکردگی سے دیاہے ، مفتی محمدنعیم کا تعلیمی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو

بدھ مئی 18:16

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) عالمی شہرت یافتہ دینی درسگاہ جامعہ بنوریہ عالمیہ کو حسب روایت مدارس کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العرابیہ پاکستان کے سالانہ امتحانی نتائج میں نمایا ںکامیابیاںحاصل کی،بنوریہ للبنات(گرلز سیکشن) نے ملکی پر2 اورصوبائی سطح پر 4پوزیشنیںاپنے نام کرکے دیگر سے آگے رہی ۔جامعہ بنوریہ عالمیہ (گرلز سیکشن )عالمیہ سال دوم کی رابعہ زاہدحسین نے 570نمبر لیکر ملکی سطح پر سوم اور صوبائی سطح پر دوم جبکہ عالمیہ سال اول کی عائشہ آفریدی بنت عبدالحکیم نے 558نمبر لیکر ملکی سطح پر سوم اور صوبائی سطح پر دوم پوزیشن حاصل کی ،اسی طرح عالمیہ سال اول کی اسماء عروج بنت محمد اقبال نی555نمبر لیکر، درجہ عالیہ سال دوم کی عائشہ بنت یونس 567نمبرلیکر صوبائی سطح پر دوم پوزشینیں حاصل کی۔

(جاری ہے)

بدھ کو بنوریہ عالمیہ میں تعلیمی کمیٹی کا اجلاس رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاق المدارس کے شاندار نتائج اور ملکی وصوبائی سطح پر پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کومبارکباد پیش کی اورخصوصی انعامات سے نوازنے کا اعلان کیا، ناظم تعلیمات وشیخ الحدیث مولانا عبدالحمید خان غوری،مولانا عزیز الرحمن ہزاروی،مولانا غلام رسول ، مولانا عبداللہ ہزاروی ،مولانا رحمت قدیر، مولانا عزیز الرحمن عظیمی،مولانانعمان نعیم سمیت دیگر اساتذہ کرام شریک ہوئے ۔

اس موقع پر رئیس الجامعہ مفتی محمد نعیم نے ا ساتذہ کرام اور طلبہ کی اچھی کارکردگی اور امتحانات کے بہتر نتائج کو کو سراہتے ہوئے کہاکہ اساتذہ کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج صوبائی اور قومی سطح پر بنوریہ کی طالبات نے نمایا کامیابیاں حاصل کی اور مجموعی طور پر نتائج بھی اچھے رہے،انہوں نے کہاکہ اساتذہ کی مخلصانہ کوششوں سے ہی بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں طلبہ محنت کو اپنا زیور بنالتے ہیں وہ ہر میدان میں کامیاب ہوتے ہیں آج جس نے محنت کی اس کی کل بہتر ہوگا اس کا ثمر ملے گا دنیا کے سارے امتحانات اس امتحان کی تیازی ہیں جس کیلئے انسان کو دنیا میں بھیجاگیاہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ مدارس دینیہ کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العرابیہ کے نتائج اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ اہل مدارس نے اپنے کیخلاف پروپیگنڈوں کا جواب کارکردگی کے ذریعے دیا ہے ، مدارس کو الزام دینے والے مدارس کے نظام تعلیم اور طرز تعلیم کو دیکھیں جہاں امتحان میں نقل تو دور طلبہ میں سراٹھانے کی جرات نہیں ہوتی اس کے باوجود نتائج کا تناسب دیگر تعلیمی بورڈز کی بنسبت بہتر ہے۔ اہل مدارس کی اسی محنت اور جدوجہدکا ثمر آج پاکستانی دینی مدارس کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے اور اعلی دینی تعلیم کے حصول کیلئے دنیا بھر کے طلبہ پاکستانی دینی مدارس کی طرف رجوع کررہے ۔

متعلقہ عنوان :