اسلام میں تمام اقلیتوں کے حقوق متعین ہیں، مسلم ریاست میں اقلیتوں کی جان و مال کی حفاظت مسلمانوں پر فرض ہے، معاشرے کا ہر فرد اپنے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی امور بیرسٹر ظفر الله خان کا سمپوزیم سے خطاب

بدھ مئی 18:19

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی امور بیرسٹر ظفر الله خان نے کہا ہے کہ اسلام میں تمام اقلیتوں کے حقوق متعین ہیں، میثاق مدینہ میں اقلیتوں کو مساوی حقوق دیئے گئے، مسلم ریاست میں اقلیتوں کی جان و مال کی حفاظت مسلمانوں پر فرض ہے، ہمیں معاشرے کے ہر فرد کو بتانا ہے کہ دین کی روح کے مطابق اپنے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔

وہ بدھ کو اسلامی نظریاتی کونسل میں منعقدہ سمپوزیم ’’پیغام پاکستان:: علماء کا متفقہ اعلامیہ/ فتوی اور پرامن پاکستان کیلئے اس کی اہمیت‘‘ اور مجلہ ’’اجتہاد شمارہ 11‘‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے ’’مسلم سماج میں اقلیتوں کے ساتھ ہمارا کیا رویہ ہونا چاہئے‘‘ کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آخرت میں ہم سے سوال ہو گا کہ آپ نے اقلیتوں کے ساتھ اسلام کے احکامات اور آ ئین و قانون کے مطابق کردار ادا کیا آج ہمیں اپنے رویوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے، اسلام میں تمام اقلیتوں کے حقوق متعین ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حضرت محمدؐ کی سیرت طیبہ ہمارے لئے نمونہ حیات ہے۔ بیرسٹر ظفر الله خان نے کہا کہ میثاق مدینہ کو پہلا تحریری آئین مانا جاتا ہے، اس میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ مسلمان تمام اقلیتوں کی جان و مال کی حفاظت کے پابند ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں اقلیتوں سے ظلم کی روایات نہیں ملتیں۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرمؐ نے اقلیتوں سے اچھے برتائو کا حکم دیا ہے اور انہوں نے فرمایا کہ اگر کسی مسلمان کے ہاتھوں غیر مسلم کو نقصان پہنچا تو وہ جنت کی خوشبو تک نہیں سونگھے گا۔

انہوں نے کہا کہ اجتہاد شمارہ کی بحالی، اسلامی نظریاتی کونسل کا اچھا اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں یونیورسٹیز، سکالرز، پروفیسر ز،علماء کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اپنے معاشرے کے ہر فرد کو بتانے کی ضرورت ہے کہ دین کی روح کے مطابق ہم اپنے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیغام پاکستان کے اعلامیہ پر 1800 زائد علماء کے دستخط ہیں جس پر تمام مکاتب فکر اور مدارس کا اتفاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان نے دنیا بھر میں پاکستان کو امتیازی حیثیت دی، پیغام پاکستان سے دنیا میں پاکستان کو ایک مقام حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اجتہاد شمارہ میں جن یونیورسٹیوں، علماء، سکا لرز اور پروفیسرز نے حصہ ڈالا ان کے مشکور ہیں سارا کریڈٹ ان کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر پیغام پاکستان کو پھیلانے کی ضرورت ہے، اسلامی نظریاتی کونسل دو اور شمارے بھی لا رہی ہے۔ تقریب میں اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی، قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر جاوید اشرف، علماء کرام اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی موجود تھیں۔