قومی اسمبلی اجلاس: فاٹا انضمام کے حوالے سے تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہوگئیں

جب تک آئین کا آرٹیکل 247فعال ہے پارلیمنٹ فاٹا کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی ، مولانا فضل الرحمن اگر کوئی بین الاقوامی ادارہ ایسا قانون بنائے جو پاکستان کے آئین کے منافی ہو اور ہم اس کی حمایت پر مجبور ہوں تو یہ غلامی ہے، دہشتگردی کے خلاف گزشتہ 15 سالوں سے جنگ ہو رہی ہے، ہمیں آپریشن کے طریقہ کار پر اختلاف تھا تاہم ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہم نے راستہ نہیں روکا، فاٹا اصلاحات کے حوالے سے معاملہ سیفران کی وزارت اور سیفران کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا، جب کمیٹی میں تاخیر ہوئی تو اسے قانون و انصاف کی کمیٹی کے سپرد کیا گیا ،یہ پارلیمانی روایات کے منافی تھا،قانون و انصاف کمیٹی کو سیفران کی کمیٹی کے معاملے کو ڈیل کرنے کا حق نہیں ہے، قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر پر اظہار خیال رواج ایکٹ کو سیفران کمیٹی میں لایا گیا ہے قانون کیلئے قانون و انصاف کی کمیٹی میں جانا ہوتا ہے فاٹا کے انضمام کیلئے کوئی بل نہیں لایا جا رہا ہے ، قومی سطح پر جب فاٹا خیبر پختونخوا کا حصہ بنے گا تو فاٹا میں صوبائی نشستیں خواتین اور اقلیتوں کی سیٹیں کتنی ہوں گی پانچ سال میں فاٹا کا انضمام ہوگا اب تین سال گزر گئے ہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی کارروائی کی طرح سے الیکشن کی کارروائی کی جارہی ہے لیویز اور پولیس کا نیا سیٹ اپ بنایا جائے گا نئی بھرتی کی اس حوالے سے دس ارب روپے پڑے ہوئے ہیں لوگ 97.5فیصد لوگ واپس فاٹا میں آگئے ہیں ، وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ کا اجلاس کے دوران اظہار خیال وزیراعظم نے کہا کہ ہم فاٹا اصلاحات کو اپنے دور میں کرنا چاہتے ہیں ہم اس سے متفق ہوئے اس کا کریڈٹ حکومت کو ملنا چاہیے ، باتیں ہورہی تھی کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں انضمام کیاجارہا ہے لیکن اب صورتحال کوئی اور ہے اگر ایسا ہوا تو پاکستان پیپلز پارٹی اس کا حصہ نہیں ہوگی، آفتاب احمد خان شیر پائو، عبدالستار بچانی سمیت دیگر اراکین اسمبلی کا فاٹا اصلاحات کے حوالے سے قومی اسمبلی میں بحث کے دوران اظہار خیال

بدھ مئی 20:22

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) ایم ایم اے کے سربراہ اور جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام کے معاملے پر ریفرنڈم کرایا جائے ، فاٹا کے عوام انضمام کے حق میں ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ،جب تک آئین کا آرٹیکل 247 فعال ہے پارلیمنٹ فاٹا کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی، اگر کوئی بین الاقوامی ادارہ ایسا قانون بنائے جو پاکستان کے آئین کے منافی ہو اور ہم اس کی حمایت پر مجبور ہوں تو یہ غلامی ہے، دہشتگردی کے خلاف گزشتہ 15 سالوں سے جنگ ہو رہی ہے، ہمیں آپریشن کے طریقہ کار پر اختلاف تھا تاہم ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہم نے راستہ نہیں روکا، فاٹا اصلاحات کے حوالے سے معاملہ سیفران کی وزارت اور سیفران کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا مگر جب کمیٹی میں تاخیر ہوئی تو اسے قانون و انصاف کی کمیٹی کے سپرد کیا گیا یہ پارلیمانی روایات کے منافی تھا،قانون و انصاف کمیٹی کو سیفران کی کمیٹی کے معاملے کو ڈیل کرنے کا حق نہیں ہے جبکہ وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ رواج ایکٹ کو سیفران کمیٹی میں لایا گیا ہے قانون کیلئے قانون و انصاف کی کمیٹی میں جانا ہوتا ہے فاٹا کے انضمام کیلئے کوئی بل نہیں لایا جا رہا ہے ، قومی سطح پر جب فاٹا خیبر پختونخوا کا حصہ بنے گا تو فاٹا میں صوبائی نشستیں خواتین اور اقلیتوں کی سیٹیں کتنی ہوں گی پانچ سال میں فاٹا کا انضمام ہوگا اب تین سال گزر گئے ہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی کارروائی کی طرح سے الیکشن کی کارروائی کی جارہی ہے، پیپلز پارٹی کا اس حوالے سے موقف تھا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں انضمام کیاجارہا ہے لیکن اب صورتحال کوئی اور ہے اگر ایسا ہوا تو پاکستان پیپلز پارٹی اس کا حصہ نہیں ہوگی،بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بجٹ میں حکومت نے ملکی معیشت کی ترجیحات کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے جو لائق تحسین ہے۔

(جاری ہے)

اگر کوئی بین الاقوامی ادارہ ایسا قانون بنائے جو پاکستان کے آئین کے منافی ہو اور ہم اس کی حمایت پر مجبور ہوں تو یہ غلامی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ بجٹ پاس ہونے کو جارہا ہے حکومت نے بہت مثبت قدم اٹھائے ہیں اب جب بجٹ پاس ہونے جارہا ہے تو اراکین اسمبلی میں آئے ہیں ایسے حالات میں بل اسمبلی میں لانا جو پاکستان کے نظریے کیخلاف اور قرآن و سنت کیخلاف ہیں جنس کی تبدیلی کا قانون پاس کردیا گیا ہے اس کی ہمارے مذہب سے کوئی ہم آہنگی نہیں ہے ہم بین الاقوامی دبائو میں ہے دفاع ، پارلیمنٹ بین الاقوامی دبائو میں ہیں عالمی دبائو کی وجہ سے قانون پاس کررہے ہیں اگر عالمی ادارے کوئی ایسا قانون پاس کرے جس سے ہمارا آئین متاثر ہوجائے ہم شرائط پر اپنا بجٹ بنائیں گے ہمارا دفاع آزاد نہیں ہے ہم پر مختلف دبائو ڈالے جارہے ہیں ہمارے نظام کو متنازعہ بنایا جارہا ہے دہشتگردی کیخلاف آپریشن بیرونی دبائو کی وجہ سے کیا جارہا ہے لیکن ہمارے معاشرے سے ہم آہنگ نہیں ہے لوگوں سے اسلحہ لے لیا گیا ہے اور ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے لوگوں کو ان کے گھروں میں جا کر قتل کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے مسئلہ ہے یہ سیفران وزارت سے متعلق ہے اس کو کمیٹی کے حوالے کیا گیا جب اس کی رپورٹ کی تاخیر ہوئی تو اس کو قانون و انصاف کو بھیج دیا گیا ہے اس طرح سے کمیٹی اپنی افادیت کھو بیٹھے گی آج کمیٹی فاٹا اصلاحات کومکمل کررہی ہے سیفران کی کمیٹی کا حق دوسری کمیٹی استعمال کررہی ہے فاٹااصلاحات کے معاملات پیچھے تھے بل پاس ہو وفاقی عدالتوں کا دائرہ فاٹا تک بڑھایا جائے جب حکومت کے چند دن رہ گئے ہیں آپ کو بجٹ پیش کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اسمبلی کی مدت پوری ہورہی ہے منصوبے الیکشن پر اثر انداز ہورہے ہیں الیکشن کمیشن پابندی لگاتا ہے ایسے حالات میں کیا ضرورت ہے کہ آ ج آبیل مجھے مار کی بات کررہے ہیں اداروں کو آپس میں لڑنے کی بات کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور قادر خان بلوچ دونوں میرے پاس تشریف لائے اور اپنی تحریر مرے پاس رکھیں جس پر ہمیں اعتراض تھا اس پر حکومت نے دستبرداری کا اعلان کیا انضمام نہیں ہوگا رواج ایکٹ عمل سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو فاٹا تک بڑھایا جائے گا فنڈز دیئے جائیں فاٹا کے عوام کے مطابق یہ مسئلہ حل کیاجائے گا آج پھر مسئلے کو ایوان میں لایا جارہا ہے بیرونی دبائو پر لایا جائے کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھایا جارہا ہے لیکن فاٹا کی اصلاحات کے حوالے سے فاٹا کے عوام سے رائے نہیں لی جارہی ہے پاکستان میں جو ریاستیں پاکستان میں شامل ہوئی ہیں ان کا انضمام نہیں کرسکے اور یک دم فاٹا کو انضمام کررہے ہیں ان کی منشا کے بغیر کیاجارہا ہے جو غیر آئینی ہے فاٹا کے مسئلے میں اتنی جلدی اور کشمیر کے مسئلے میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے یہ مسئلہ بہت سنگین ہے اس پر بہت اہم مسئلہ ہے اقوام متحدہ جن کو دہشتگردی میں لائے پاکستان بھی ان کو دہشتگردی کی لسٹ میں ڈالا جارہا ہے جنہوں نے پاکستان کے خون کو بیچا ہے امت مسلمہ می امریکہ کی پالیسبیاں ختم ہوچکی ہیں ہم آئے روز ان کے آگے جھک گئے ہیں میں پشاور میں امریکہ کی لابی کو جانتا ہوں جو انضمام کی کوشش کررہے ہیں وہ ان کا ایجنڈزا ہے کل دبائو آئے گا تو پھر کہیں کہ حالات ٹھیک کریں اور آخری دونوں میں فاٹا بل لایا جارہا ہے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کریں ہم نے آپ کی مدد کی ہے اگر ہم اختلافات کریں تو بہت سے ایشو میں پپ کو سوچنا ہوگا 1951 میں ملک کیلئے بائیس رہنما اصول طے کئے گئے ہیں فوجی عدالتیں بنائو اب ٹارگٹ کلنگ کیوں شروع ہوگئی ہے ہماری برداشت کا امتحان لیا جارہا ہے قیام پاکستان میں بھی عالمی ساتھ تھا جمعیت علمائے اسلام مذہبی عمل کی بہت سے بڑی جماعت ہے غلط ٹائم پر کام کیاجارہا ہے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی معاملات طے پانے کے باوجود آج پھر اپوزیشن کے ساتھ مل کر ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے جنگ ہوگی تو آپ ذمہ دار ہوں گے معاملے کو وہاں کے عوام کے پاس لے جائیں ان سے پوچھا جائے ۔

آفتاب احمد شیر پائو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن بڑے قابل احترام ہیں فاٹا کے حوالے سے انہوں نے بات کی ہے میں بھی کرنا چاہتا ہوں فاٹا اصلاحات کے حوالے سے کمیٹی بنائی گئی ہے جس نے رپورٹ ایوان میں پیش کی ہے کمیٹی کو جو حقائق لیکر آئی اس پر ہم بھی بہت حیران ہوئے تھے اس پر بڑی تفصیل سے بحث ہوئی ہم سمجھ رہے تھے کہ اب سلسلہ آگے بڑے گا لیکن اس میں رکاوٹیں آررہی ہیں اپوزیشن کی تمام جماعتیں اس پر متفق ہیں وزیراعظم نے کہا کہ ہم فاٹا اصلاحات کو اپنے دور میں کرنا چاہتے ہیں ہم اس سے متفق ہوئے اس کا کریڈٹ حکومت کو ملنا چاہیے آئین میں لکھا ہے کہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے یہ فورم ہے جس میں آئین میں ترمیم کی جاسکتی ے اب حکومت نے فیصلہ کیا ہم حکومت کا ساتھ دینگے یہ نیا باب ہوگا فاٹا کی عوام کیلئے ۔

بلال الرحمن نے کہا کہ فاٹا کو انضمام کی بجائے علیحدہ حیثیت بھی دی جاسکتی ہے فاٹا کے متاثرین ابھی بحال نہیں ہوئے لیکن ان کو انضمام کی پڑی ہوئی ہے جو وعدے کئے گئے تھے وہ کدھر گئے ایک ارب پچیس کروڑ کا وعدہ کیا گیا تھا سٹوڈنٹ کی سکالر شپ نہیں وہ کدھر گئے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے ترمیم لائی گئی تھی اس میں کہا گیا تھا کہ یہ فاٹا پر لاگو نہیں ہوں گے فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ پہلے فاٹا میں امن لایا جائے گا متاثرین کو بحال کیاجائے گا ملک کے کسی حصے کے سٹیٹس کوتبدیل کرنے کا اختیار اسمبلی کے پاس نہیں ہے ۔

ڈاکٹر عذرا فضل نے کہا کہ اگر حکومت نے وعدہ کیا ہے تو پورا کریں فاٹا میں پولیٹیکل ایجنٹ بدعنوانیاں کریں تو ہم کہاں کا انصاف ہے اگر فاٹا کو انضمام کرنا ہے تو کریں ہم اس کے ساتھ ہیں فاٹا میں پاکستان کا قانون چلے اس کو پاکستان سے الگ نہیں ہونا چاہیے تحریک انصاف کے علی محمد نے کہا کہ ہم کسی کے حکم پر فاٹا کے انضمام کی بات نہیں کرتے فاٹا کے عوام کی خواہش ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں انضمام ہوں پشاور ہائی کورٹ فاٹا کی تعریف کی تھی اسلام آباد ہائی کورٹ حکومت پھر ہماری بات مانی ہے فاٹا میں ہر گھر سے لوگ شہید ہوتے ہیں فاٹا کی عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلہ کیا جائے اس ایوان سے اس ملک کو آئین دیا ہے ساری اپوزیشن اس مسئلے پر حکومت کے ساتھ کھڑی ہے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ ہم نے بہت پہلے فاٹا کے حوالے سے تحریک شروع کی تھی آج ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فاٹا کے تمام لوگ متفق ہوچکے ہیں کہ ان کو خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام ہونا چاہیے مولانا فضل الرحمن کا اپنا موقف ہے لیکن ہمارا موقف ہے ہم اس پر حکومت کے ساتھ ہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے حوالے سے بھی نوٹیفکیشن نہیں کیا گیا اگر انضمام کرنا چاہتے ہیں تو 247 کا خاتمہ کرتے ہیں ۔

شیخ صلاح الدین نے کہا کہ اس مسئلے کو حل ہونا چاہیے اگر خواجہ منصور کے مسئلے کو حل نہیں کیا گیا تو ہم اجلاس نہیں ہونے دینگے فاٹا کے عوام کوان کے حقوق نہیں مل رہے سکول یونیورسٹیز اور ہسپتال بنائے جارہے ہیں ملک میں بیس صوبے بننے چاہیں اگر صوبے بنیں گے تو وفاق مضبوط ہوگا کراچی میں عوامی مسئلے کو برداشت کررہے ہیں فاٹا کے عوام کو ریلیف نہیں ملے گا تاریخ میں لکھا جائے گا ۔

جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ رواج ایکٹ کو سیفران کمیٹی میں لایا گیا ہے قانون کیلئے قانون و انصاف کی کمیٹی میں جانا ہوتا ہے فاٹا کے انضمام کیلئے کوئی بل نہیں لایا جا رہا ہے دو ہزار اٹھارہ میں فاٹا میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جارہی قومی سطح پر جب فاٹا خیبر پختونخوا کا حصہ بنے گا تو فاٹا میں صوبائی نشستیں خواتین اور اقلیتوں کی سیٹیں کتنی ہوں گی پانچ سال میں فاٹا کا انضمام ہوگا اب تین سال گزر گئے ہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی کارروائی کی طرح سے الیکشن کی کارروائی کی جارہی ہے لیویز اور پولیس کا نیا سیٹ اپ بنایا جائے گا نئی بھرتی کی اس حوالے سے دس ارب روپے پڑے ہوئے ہیں لوگ 97.5فیصد لوگ واپس فاٹا میں آگئے ہیں کسی ایک ایجنسی میں ایسا ہوسکتا ہے کے لوگ نہیں آتے کل آبادی پچیس لاکھ تھی اس میں سے 97.5فیصد لوگ آئے ہیں جرگے کے ذریعے سے فاٹا کی عوام کی رائے لی جائے گی ہر ایجنسی میں گئے ہر ایجنسی میں دو جرگے کئے گئے آج تمام پارٹیاں کے نمائندے یک زبان ہوکر کہتے ہیں کہ فاٹا کا انضمام کیاجائے ایف سی آر کے خاتمے کی بات کی جارہی ہے یہ وزیراعظم کے پاس اختیار ہے اس کو ہم ختم کررہے ہیں فاٹا کی آبادی کے لحاظ سے تیس فیصد بنتا ہے یہ فاٹا کا حق ہے وہ ملے گا سو ارب ہر سال خرچ ہوگا ہمارے افغانستان سے اچھے تعلقات ہیں فاٹا کے انضمام پر وہ کوئی بات نہیں کرے گا اگر اس کو کوئی مسئلہ ہوگا تو وہ انٹرنیشنل قوانین کے مطابق کریں فاٹا کے حوالے سے ریفرنڈم کی بات نہ کی جائے اگر ایم کیو ایم کوئی مسئلہ ہوتا تو کھل کر اپنی بات کریں انضمام کے حوالے سے آنے والی حکومت کرے گی ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کی بات کی تھی کہا گیا تھا کہ ہر سال سو ارب روپے دیئے جائینگے اور دس سال تک چلتا رہے گا ابھی یہ پانچ سال ہوئے ہیں ہم نے ریفرنڈم کا مسئلہ اٹھایا ہے اس سے فاٹا کی عوام کی رائے آجائے ۔ عارف علوی نے کہا کہ کسی چیزکا انتظام نہیں کیاجاتا فاٹا کے عوام انضمام چاہتے ہیں ہماری پارٹی چاہتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے عبدالستار بچانی نے کہا کہ باتیں ہورہی تھی کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں انضمام کیاجارہا ہے لیکن اب صورتحال کوئی اور ہے اگر ایسا ہوا تو پاکستان پیپلز پارٹی اس کا حصہ نہیں ہوگی ۔۔