سندھ ہائی کورٹ نے کے ایم سی کے 1200فائر فائٹرز کو فائر رسک الائونس کی ادائیگی کی ذمہ داری کے تعین کے لیے دستاویزات 5جون تک طلب کرلیں

بدھ مئی 20:44

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) سجن یونین (سی بی ای) کے ایم سی کے صدر سیدذوالفقارشاہ ،جسٹس ہیلپ لائن کے صدرندیم شیخ ایڈوکیٹ ،ریٹائر پنشنرز کے نمائندے محمد اسمٰعیل شہیدی کی جانب سے کے ایم سی وڈی ایم سیز کی80ہزارملازمین وپنشنرز کی تنخواہوں کی ادائیگی میں باقاعدگی لانے فائر فائٹرزکو10ماہ کے فائر رسک الائونس کی ادائیگی اور761ٹیچرز کی اگست2015سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں دائر آئینی درخواستوں کی سماعت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عرفان سعادت خان ،جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل ڈویثرن بینچ میں ہوئی ،،سماعت کے موقع پرچیف سیکریٹری کے فوکل پرشن نے عدالت کو بتایا کہ فائر فائٹرز کے ایم سی کے ملازم ہیں انکی تنخواہیں الائونسز کی ادائیگی سندھ حکومت کی نہیں بلکہ کے ایم سی ذمہ داری ہے جسکی سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نے بھی تائید کی ۔

(جاری ہے)

کے ایم سی کے وکیل خرم ایڈوکیٹ نے کہا کہ تنخواہوں الائونسز کی ادائیگی کے ایم سی کی ذمہ داری ہے ۔لیکن اس سلسلے میں فنڈز کی کمی ہے لٰہذا 7کروڑ کا شارٹ فال دور کیا جائے ۔سیدذوالفقارشاہ ،سیدشعاع النبی ایڈوکیٹ اور ندیم شیخ ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سارا بگاڑ 50کروڑ کی اسپیشل گرانٹ میں 20کروڑ کی کٹوتی کے بعد پیدا ہوا ہے ۔لٰہذا یونین کی توہین عدالت کی درخواست پر20کروڑ کی کٹوتی پر سیکریٹری بلدیات اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت20کروڑ کی کٹوتی کا نہیں بلکہ فائر رسک الائونس کی ادائیگی کا معاملہ زیادہ سنگین ہے لٰہذا اس سلسلے میں درخواست گذاراور کے ایم سی شواہد پیش کرے کہ فائر رسک الائونس کی ادائیگی کی ذمہ داری آیا کہ کے ایم سی کی ہے یا حکومت سندھ کی ہے ۔5جون تک شواہد پیش کیے جائیں ۔ٹیچرز کی تنخواہوں کے کیس کی اس اہم کیس کے ساتھ سماعت کے مسلسل چوتھی پیشی پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی جس سے خواتین ٹیچرز کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔

اس دوران سماعت 5جون تک ملتوی کردی گئی ۔۔سماعت کے موقع پر چیف سیکریٹری کے فوکل پرسن ،سیکریٹری بلدیات ،میٹروپولیٹن کمشنر کے ایم سی ،لیگل ایڈوائزر کے ایم سی وڈی ایم سیز ،سیدشعاع النبی ایڈوکیٹ ،ندیم شیخ ایڈوکیٹ ،سیدذوالفقارشاہ کے علاوہ فائر فائٹرز اور خواتین ٹیچرز کی بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی ۔