شام میں کیمیائی حملے میں کلورین گیس استعمال کے شواہدموجود،او پی سی ڈبلیو

کلورین گیس باغیوں نے استعمال کی یا شامی فوج نے اسکی تحقیقات جاری ،رپورٹ

بدھ مئی 22:03

سراقب(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے سرگرم بین الاقوامی ادارے او پی سی ڈبلیو نے کہا ہے کہ شام میں کیمیائی حملے کے شواہد ملے ہیں،حملے میں کلورین گیس کا استعمال کیا گیا، کلورین گیس باغیوں نے استعمال کی یا شامی فوج نے اسکی تحقیقات جاری ہیں۔

(جاری ہے)

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے سرگرم بین الاقوامی ادارے او پی سی ڈبلیو نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا ہے کہ رواں سال فروری میں شامی شہر سراقب میں امکاناً کلورین گیس استعمال کی گئی۔

اس سلسلے میں ادارے کے ایک تحقیقاتی مشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ لیبارٹری ٹیسٹس سے کلورین کی موجودگی ثابت ہو گئی ہے۔ البتہ او پی سی ڈبلیو نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ زہریلی گیس باغیوں نے استعمال کی ۔ صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے۔ سراقب کے ال تلیل نامی محلے میں یہ حملہ چار فروری کو کیا گیا تھا۔