آزاد کشمیر احتساب بیورو نے محکمہ صحت ضلع سدھنوتی کے آفیسران/اہلکاران کیخلاف آمدہ ریفرنس پر تفتیش مکمل کر لی

ملزمان کی گرفتاری کیلئے احتساب بیورو کی تفتیشی ٹیم کے مختلف علاقوں میں چھاپے ‘ملزمان روپوش ہو گئے

بدھ مئی 20:53

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) آزاد جموں و کشمیر احتساب بیورو نے حکومت کی جانب سے محکمہ صحت عامہ ضلع سدھنوتی کے آفیسران/اہلکاران کے خلاف آمدہ ریفرنس پر تفتیش مکمل کر لی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کیلئے احتساب بیورو کی تفتیشی ٹیم مختلف علاقوں میں چھاپے ما ر رہی ہے جبکہ ملزمان روپوش ہیں۔آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی طرف سے مئی 2017 کو محکمہ صحت عامہ ضلع سدھنوتی کے DHO (وقت))ڈاکٹر محمد حیات اور دیگر اہلکاران (وقت) کے خلاف بڑے پیمانے پر سنگین مالی خردبرد اور غیر قانونی تقرریاں/ترقیابیاں عمل میں لائے جانے اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کے علاوہ اختیارات کے ناجائزاستعمال اور حکومتی احکامات پر عملدرآمدمیں رکاوٹ بننے کے الزامات کی نسبت ریفرنس احتساب بیورو کو ارسال کیا گیا۔

(جاری ہے)

احتساب بیورو کی تفتیشی ٹیم نے آمدہ ریفرنس پر تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے تمام الزام علیہان کے بیانات قلمبند کرتے ہوئے جملہ ریکارڈ قبضہ میںلیا۔دوران تفتیش ریکارڈ کی چھان بین سے ملزمان پرلگائے گئے الزامات کو تقویت حاصل ہوئی۔مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ خریدہ کردہ اشیاء کے بلات ،سٹور کے رجسٹر میں اندراج ہو کرسٹاک رجسٹرمیں اندراج نہ ہونا پائے گئے جبکہ بعض فرضی اور جعلی بلات بھی مرتب کئے گئے۔

اسطرح جعلی بلات کی مد میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی جعلی اور فرضی ادائیگیاں عمل میں لائی گئیں۔ادویات کی خرید داری میں14 لاکھ روپے کا خرد برد کیا گیا۔مالی سال2013-14 کے دوران بجٹ میڈیسن کیلئی93 لاکھ روپے مختص کئے گئے جبکہ کیش بک میں اس رقم کا اندراج نہ ہونا پایا گیا۔دوران تفتیش خلاف قواعد تقرریوں کی نسبت تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہDHO (وقت))ڈاکٹر محمد حیات نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے گریڈ بی۔

09 میں تقرریاں عمل لائیں جس کا اختیار DG ہیلتھ کے پاس تھا۔گاڑیوں کی مرمتی کی نسبت بھی وسیع پیمانے پر خردبرد ہونا پائی جاتی ہے۔DHO (وقت) ڈاکٹر محمد حیات نے اکائونٹنٹ آفتاب احمد چغتائی کی ملی بھگت سے ملازمین کی تنخواہ،ہیلتھ الائونسسز اور ایکسرے فیس وغیرہ میں وسیع پیمانے پر بھی خردبرد کی اور جعلسازی /فراڈ کے ذریعہ ان مدات کی رقم ہتھیالی۔

تمام تر تحقیقات کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹر محمد حیات DHO (وقت)،آفتاب احمد چغتائی اکائونٹنٹ(وقت)اور ارشد محمود سینئر کلرک(وقت) نے ملی بھگت کے ذریعہ وسیع پیمانے پرمالی خردبرد اور غیر قانونی تقرریاں عمل مختلف عناصر احتساب بیورو کی تفتیش کو سبوتاز کرنے اور ادارہ کو بدنام کرنے کیلئے من گھڑت حربے استعمال کر رہے ہیںجو سراسر جھوٹ اور بددیانتی پر مبنی ہیں۔

ایک مقامی اخبار کے ذریعہ ادارہ ہذا کے چیف پراسیکیوٹر اور دیگر آفیسران پر بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے ہیں جو کہ سراسر جھوٹ اور ادارہ ہذا کے آفیسران کو بدنام کرنے کی ایک کاوش ہے۔چیف پراسیکیوٹر اور دوسرے آفیسران جن میں شہزادہ گوھر رحمان اور امجد علی منہاس شامل ہیں اُن کا اس تفتیش سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ تفتیش DSP عرفان الحق کیانی نے کی ہے اور تمام تر ریکارڈ اور شواعد کی روشنی میں چیئرمین احتساب بیورو نے ملزمان کے ورانٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔

ورانٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد مرکزی ملزم ڈاکٹر محمد حیات روپوش ہے جبکہ دیگر دو ملزمان عبوری ضمانت پر ہیں اور شعبہ پراسیکیوشن چیف پراسیکیوٹر سردار امجد اسلم کی سربراہی میں کیس کی مئوثر پیروی کر رہا ہے اور بہت جلد تمام ملزمان کو قانونی گرفت میں لایا جائے گاجبکہ اس سے قبل بھی احتساب بیورو کے دوسرے ٓفیسران جن میں ڈائریکٹر انتظامیہ محمدیونس میر کے خلاف بھی مختلف اوقات میں من گھڑت خبریں شائع کروائی گئی تھیں۔ چیئرمین احتساب بیورو نے ادارہ کے آفیسران کی ساکھ کو نقصان پہچانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ عنوان :