قومی اسمبلی اجلاس کے دوران لوڈشیڈنگ کے باعث حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے مابین دلچسپ جملوں کا تبادلہ

میر ظفر اللہ خان جمالی کی دھواں دھار تقریر کے دوران بجلی چلی گی ، دیگر ارکان کے بلند آواز میں نعرے ، چچا جی آواز نہیں آرہی مہربانی فرما کر اونچا بولئے

بدھ مئی 21:01

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران لوڈشیڈنگ کے باعث حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے مابین دلچسپ جملوں کا تبادلہ جاری رہا ۔ بدھ کے روز تربیلا اور گدو پاور پلانٹ میں فنی خرابی کے باعث جہاں ملک کے بیشتر حصوں میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال درپیش رہی وہیں پارلیمنٹ کو بھی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ۔رکن قومی اسمبلی میر ظفر اللہ خان جمالی ،سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے ممبئی حملوں کے بارے میں بیانات سے متعلق دھواں دھار تقریر کر رہے تھے کہ اچانک بجلی چلی گئی تاہم انہوں نے خاموش ہونے کی بجائے اپنی تقریر جاری رکھی جس پر قومی اسمبلی میں موجود دیگر ارکان کی جانب سے بلند آواز میں نعرے لگاتے ہوئے کہا گیا کہ چچا جی آواز نہیں آرہی مہربانی فرما کر اونچا بولئے ۔

(جاری ہے)

وزیرخزانہ مفتاح اسمعاعیل نے مطالبات زر کے حوالے سے بولنا شروع کیا تو ایک بار پھر لوڈشیڈنگ کے باعث ایوان اندھیرے میں ڈوب گیا ۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے کہا کہ یہ تھی مسلم لیگ (ن) کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے حوالے سے پالیسیاں کہ آج ایوان میں بھی بجلی میسر نہیں ہے ۔ اپوزیشن ارکان بجلی دو بجلی دو کے نعرے لگاتے رہے اور ڈائس بجاتے رہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری نے کہا کہ یہ حکومت کیلئے افسوس کا مقام ہے ۔۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔