کیمسٹ اینڈ ڈرگیسٹ ایسوسی ایشن کی ہڑتال جاری ، شانگلہ بھر میں دوسرے روز بھی میڈیکل سٹور بند

ضلعی انتظامیہ ڈپلومہ ہولڈرز اور میڈیکل سٹورزمالکان کیخلاف درج شدہ مقدمات فوری واپس لے ، مطالبہ

بدھ مئی 21:29

ا لپوری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) شانگلہ بھر میں دوسرے روز بھی میڈیکل سٹور بند، کیمسٹ اینڈ ڈرگیسٹ ایسوسی ایشن کی کال میڈیکل سٹورز بند رہے، مطالبات منظوری ہونے تک ہڑتال جاری رہے گی ، ضلعی انتظامیہ ڈپلومہ ہولڈرز اور میڈیکل سٹورزمالکان کیخلاف درج شدہ مقدمات فوری واپس لیے ، صوبائی حکومت کے ڈرگ ایکٹ میں ترمیم وہ پہلے اپنے سرکاری ہسپتالوں میں لاگو کرے،پورے ضلع میں فارمیسسٹ موجود نہیں ، سرکاری ادویات کی بی ایچ اوز ڈسپنسریاں اور دیگر ہسپتالوں کو کھولے ڈاٹسنوں ،موٹر سائیکلوں پر سپلائی ہوتے ہیں تو ہمارے لئے تضاد کیوں ہے،نجی میڈیکل سٹوروں کو ادویات باقاعدہ طور پر مخصوص ٹمپریچرمیں سپلائی ہوتا ہے ۔

کیمسٹ اینڈ ڈرگیسٹ ایسوسی ایشن کے صدر اکرام الدین ۔

(جاری ہے)

جنرل سیکرٹری نظرمحمد کا اجلاس سے خطاب ۔ انھوں نے کہا کہ پہلے سے جاری شدہ لائسنسوں کے رینول اور کیٹگری سی پر لائسنس جاری کرنے میڈیکل فیکلٹی سے جاری شدہ ڈپلومہ پر فرسٹ ایڈ کی اجازت دینا،شانگلہ میں 80فیصد ہیلتھ فیسلٹی دستیاب نہیں ہے سرکاری ہسپتالوں ،بی ایچ اوز،ڈسپنسریوں میں فارمیسسٹ موجود نہیں ہے ۔

شانگلہ میں ہیلتھ سے متعلق عوام پریشان اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا۔ڈرگ اینڈ کیمسٹ کا اپنے مطالبات تک شٹر ڈائون ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان۔تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت کی ڈرگ ایکٹ میں تجویز کردہ ترمیم پر کیمسٹ اینڈ ڈرگیسٹ ایسوسی ایشن سراپا احتجاج بن گئی،صوبائی حکومت کی ترمیم کو متنازعہ اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے اپنے میڈیکل سٹوروں کو تالے لگادئے گئے ،بدھ کے روز ایسوسی ایشن کی کال پر ضلع بھر کے تمام میڈیکل سٹور مالکان نے ایکٹ کی مخالفت میں شٹرڈائون کیا ،میڈیکل سٹور مالکان نے احتجاجاً اپنی بازووں پر سیاہ پٹی باندھی تھی اور اپنے ہر سٹور پر ایکٹ کے خلاف بینرز اویزاں کئے تھے جس پر صوبائی حکومت کے ظالمانہ ایکٹ نافذ کرنے کے نعرے درج کئے گئے تھے ۔

ادھر ڈاکٹروں نے مریضوں کو باہر سے دوائیاں تجویز کی تھی جبکہ سٹورز بند تھے جس سے ایک طرف ڈاکٹرز شدید پریشان تھے تو دوسری طرف دور دراز سے آنیوالے مختلف بیماریوں میں مبتلا مریض بھی شدید ذہنی کوفت کا سامنا کر رہے تھے ۔عوامی حلقوں نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے خاموشی کے بجائے معاملے کو سنجیدہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقین کو بٹھا کر معاملہ کو مناسب طریقے سے حل کیا جائے۔

متعلقہ عنوان :