کوئٹہ،لیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں میں رد وبدل پشتون دشمنی پر مبنی عمل ہے ،رہنماعوامی نیشنل پارٹی

ہرنائی ،زیارت ،موسی خیل ،شیرانی کے حلقوں کو 4کے بجائے 2اور کوئٹہ کے پشتون اکثریتی حلقوں کی غیر فطری طورپر دوسرے حلقوں کے ساتھ ملانا وفاقی اور سابق صوبائی حکومت کی نااہلی ہے ، جب تک پشتون بیلٹ میں سی پیک کے مغربی روٹ ،صنعتی زونز اوردیگر ترقیاتی منسوبوں کا جال نہیں بچھایاجاتا ،انتہاپسندی ،رجعت پسندی ،دہشت گردی کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی،جلسہ عام سے خطاب

بدھ مئی 22:48

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں میں رد وبدل پشتون دشمنی پر مبنی عمل ہے ،ضلع ہرنائی ،زیارت ،موسی خیل ،شیرانی کے حلقوں کو 4کے بجائے 2اور کوئٹہ کے پشتون اکثریتی حلقوں کی غیر فطری طورپر دوسرے حلقوں کے ساتھ ملانا موجودہ وفاقی اور سابق صوبائی حکومت کی نااہلی اور صوبے کی جانب سے الیکشن کمیشن بھیجے گئے ممبر کی کوتاہی اور بدنیتی کامنہ بولتاثبوت ہیں ،جب تک فاٹا کی مکمل انضمام پشتونخوا کیساتھ عمل میں نہیں لایاجاتا ملک میں امن وامان کا قیام ناممکن ہے اور جب تک پشتونخوا اور یہاں کے پشتون بیلٹ میں سی پیک کے مغربی روٹ ،صنعتی زونز اوردیگر ترقیاتی منسوبوں کا جال نہیں بچھایاجاتا ،انتہاپسندی ،رجعت پسندی ،دہشت گردی کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی ،تحصیل چمن کے صدر گل باران فاغان ،حاجی محمد صادق صدا ،عبدالرزاق بابو ،بشیراحمد ،قہار خان ،کلیم اللہ اور فدا محمد قبال نے چمن میں احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے پہلے باچاخان مرکز چمن سے حلقہ بندیوں میں ردوبدل کے خلاف ،،فاٹا پشتونخوا فوری انضمام ،،سی پیک مغربی روٹ پر عمل درآمد کے حق میں احتجاجی ریلی نکالی گئی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی باچاخان مرکز کے سامنے احتجاجی جلسہ میں تبدیلی ہوئی مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے ،اصغرخان اچکزئی نے کہاکہ اس ملک کے طویل مدتی پالیسیوں میں ہمیں شروع دن سے نظرانداز کیا گیا حالات اور دوسروں کیلئے چاہیے کتنے سازگار ہی کیوں نہ ہو لیکن پشتون قوم اور پشتون خوا ملی وطن ہمیشہ زیر عتاب رہے ہیں ،وسائل پر دسترس نہ ہونے کی وجہ سے جنت نظیر وطن کے مالک ہونے کے باوجود دوقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں ،قیام پاکستان کے بعد پہلی بار پڑوسی ملک کی جانب سے سی پیک مغربی روٹ پر کام کااعلان کیا جو صرف اعلان تک ہی محدود رہا اور ملک کی اشرافیہ اپنی پرانی روش پر قائم رہتے ہوئے دہشت گردی ،انتہاپسندی ،غربت کا شکار پشتون وطن کو اس کے ثمرات سے محروم کردیاگیا اور اس عظیم منصوبے کو چائنا پنجاب کوریڈور میں تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ،اصغرخان اچکزئی نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان میں امن کا قیام دونوں ممالک اور اس کے عوام کے فائدے میں ہے باہمی اعتماد سازی کے فضا کو برقرار رکھتے ہوئے دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے سے ہی دونوں اطراف کے عوام کیلئے آسان تجارتی راستے اپنانے سے بدگمانیوں کو کم کیاجاسکتاہے اصغرخان اچکزئی نے کہاکہ جب تک فاٹا کا پشتونخوا کے ساتھ مکمل انضمام عمل میں نہیں لایاجاتا یہ علاقہ انتہاپسندوں ،دہشت گردوں کیلئے محفوظ پنا ہ گاہ ہی کے طورپر استعمال کیاجاتارہے گا لہذا وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ بلا تاخیر اس پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے پہل کیا جائے مقررین نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں میں ردوبدل ہرنائی ،موسی خیل کے حلقوں کو زیارت اور شیرانی میں ضم کرنے اور کوئٹہ کے پشتون اکثریتی علاقوں کو ایک دوسرے سے کاٹ کر دوسرے حلقوں کا حصہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے پشتون دشمن عمل سے تعبیر کیا اور مطالبہ کیاگیاکہ اس طرح کے غیر فطری اور میرٹ قواعد وضوابط کے بر خلاف اقدامات کوفوری طورپر منسوخ کیاجائے ،علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی کے زیراہتمام صوبے بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹر ز پشین ،قلعہ سیف اللہ ،ژوب،شیرانی ،موسی خیل ،لورالائی ،زیارت ،ہرنائی ،سبی ،لسبیلہ ،دکی میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور الیکشن کمیشن کے ناروا فیصلوں کے خلاف احتجاج کیا گیا مقررین نے مطالبہ کیا گیا کہ ہرنائی ،موسی خیل حلقے بحال کئے جائیں تاکہ پشتونوں میں پھیلی بے چینی کا خاتمہ ہو۔