مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے آج کفار کی جانب سے امت مسلمہ پر مظالم کی انتہاہوگئی ہے ،مولانا عبدالحق ہاشمی

بدھ مئی 23:03

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی دہشت گردی وبمباری کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے آج کفار کی جانب سے امت مسلمہ پر مظالم کی انتہاہوگئی ہے ۔اسرائیلی فوج نے مقبوضہ فلسطین میں ہر طرف دہشت گردی شروع کی ہے بدقسمتی سے امت مسلمہ آج بھی غفلت کی نیند سویا ہوا ہے امریکہ نے سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرکے دہشت گردی کی آگ پرتیل ڈال دیاترکی کا اسرائیلی سفیر ملک بدرکرنااحسن قدم ہے ۔

مولانا عبدالحق ہاشمی نے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقلی کے خلاف معصوم ونہتے فلسطینیوں کے احتجاج پر فائرنگ اور ستر کے قریب فلسطینیوں کو شہیداورہزاروںزخمی کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل امریکہ اور بھارت نے مل کر دنیابھر میں دہشت گردی پھیلائی ہے جماعت اسلامی ہر ظلم کے خلاف اورمظلوم کیساتھ ہیں انہوں نے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ظلم و جبر،دہشت گردی اور قتل عام کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں اور اسرائیل کی وحشت اور بربریت کو رکوانے کیلئے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے ۔

(جاری ہے)

امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقلی اور امریکہ کی اسرائیل کی سرپرستی کے خلاف مسلمانوں کو بھر پور احتجاج کرنا چاہیے مسلم حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار ہوکر امت کی ترجمانی کرنی چاہیے اور مسلم امت کو مظالم واسرائیلی ،،امریکہ بھارتی دہشت گردی سے نجات دلاناچاہیے ۔ معصوم نہتے فلسطینی اپنی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف گزشتہ 70سال سے احتجاج کررہے ہیں مگر عالمی برادری مجرمانہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اب امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل ہونے سے اسرائیل کی درندگی اور وحشت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔

انہوں نے عالم اسلام سے بھی مطالبہ کیا کہ اس مسئلے پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے اور اسرائیلی مظالم کا شکار فلسطینیوں کی فوری امداد اوراسرائیل کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے ۔ بیت المقدس فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کا قبلہ او ل اور مقدس شہر ہے ۔ استعماری صیہونی قوتوں کی انصاف و مسلم دشمنی نے دنیا کے امن کو تہ و بالاکر دیاہے امریکی سفارتخانے کی منتقلی کی تقریب میں 86 ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی جس میں صرف 33 نے شرکت کی یہ امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی ہے ۔