انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ممبئی حملہ کیس میں استغاثہ کے دو پاکستانی گواہان کو طلب کرلیا، سماعت 23مئی تک ملتوی

بدھ مئی 23:24

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ممبئی حملہ کیس میں استغاثہ کے دو پاکستانی گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 23مئی تک ملتوی کر دی ہے ۔بدھ کو عدالت نے سماعت کی تو اس موقع پر عدالت نے استغاثہ کے گواہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء اور زاہد اختر کو طلبی کے سمن جاری کردیئے ۔

عدالت نے 27بھارتی گواہوں کی دستیابی سے متعلق وزرات داخلہ، خارجہ اور ایف آئی اے سے جواب طلب کرلیا ہے ۔۔عدالت نے حکم دیا کہ کیس حتمی مراحل میں داخل ہوچکا ہے صرف دو پاکستانی گواہوں کا بیان ہونا باقی ہے،،عدالت کے بار بار کہنے کے باوجود جنوری 2016 سے بھارتی گواہوں سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا، 23مئی تک بھارتی گواہوں کی دستیابی سے متعلق جواب جمع کرایا جائے ۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ مجموعی طور پر ایف آئی اے کے 85گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں ،ایف آئی اے کی طرف سے 150 گواہوں کی فہرست عدالت کو دی گئی تھی جبکہ 63 گواہوں کو غیر ضروری قرار دے کر ترک کردیا گیا ہے ۔۔عدالت نے ملزم زکی الرحمن لکھوی کی آج حاضری سے استثنا کی درخواست بھی منظورکر لی ہے۔ملزم زکی الرحمن لکھوی بعد از گرفتاری ضمانت پر ہیں۔ مقدمے میں قاضی مصباح سرکاری وکیل ہیںاور واثق سعید ایف آئی اے پراسیکیوٹر ہیں۔