فیسوں سے متعلق عدالتی فیصلے کیخلاف نظرثانی اپیل دائر

ریگولیٹری اتھارٹی قانون اورعدالتی فیصلے میں تضاد ہے ، نوٹیفکیشن کالعدم قراردیاجائے،عقیل رزاق ہوپ نے نجی سکولزکی درجہ بندی پربھی تحفظات ظاہر کردئیے،ریگولیٹری اتھارٹی اعتماد میں لے

بدھ مئی 23:24

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) ہب آف پرائیویٹ ایجوکیشن(ہوپ )نے فیسوں سے متعلق پشاورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست جمع کرادی ہے۔ درخواست میں نجی سکولزریگولیٹری اتھارٹی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے کی استدعاکی گئی ہے ہوپ نے نجی سکولزکی درجہ بندی پربھی تحفظات ظاہرکردئیے۔اس حوالے سے ہوپ کی ضلعی کابینہ کااجلاس زیرصدارت صوبائی صدر عقیل رزاق منعقدہوا جس میں امجدنواز درانی،افتخارعلی ،ملک اعجازعلی،واصف اللہ،گل نبی ، ارسلاخان کے علاوہ دیگرعہدیداروں نے شرکت کی۔

اجلاس کوبتایاگیاکہ ریگولیٹری اتھارٹی بل میں ایک سکول میں پڑھنے والے ایک سے زائد بہن بھائیوں کی فیس میں20فیصدرعایت کی بات ہے مگرعدالت 50فیصدرعایت کے احکامات دے رہی ہے جبکہ چھٹیوں میں عدالت نجی سکولزکو50فیصدفیسیں وصول کرنے کی احکامات دے رہی ہے جبکہ ریگولیٹری بل میں چھٹیوں کی فیس کا ذکر تک نہیں اسی طرح ایکٹ سالانہ فیس10فیصدتک جبکہ عدالت3فیصدبڑھانے کاکہہ رہی ے اس ابہام کو دورکرنے کیلئے پشاورہائیکورٹ میں باقاعدہ طور پر نظرثانی درخواست دائر کردی گئی ہے ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر عقیل رزاق نے کہاکہ ریگولیٹری اتھارٹی نجی سکولوں کی درجہ بندی سے پہلے پرائیویٹ سیکٹر کو اعتماد میں لے ورنہ اتھارٹی کے غلط فیصلوں پرپرائیویٹ سکولزمالکان ادارے بندکرنے پرمجبورہوجائینگے جسکے نتیجے میں ہزاروں ملازمین بے روزگار اور60لاکھ طلبہ کامستقبل دائوپرلگ جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ بیشترنجی سکولزانٹرپرینیورکی حیثیت سے کرایے کی عمارتوں میں قائم ہیں جہاں بلڈنگ مالک تزئین وآرائش کی اجازت نہیں دیتا اسلئے سکولوں کی درجہ بندی کیلئے سہولیات اوروسائل کی بجائے تعلیمی معیارکوپرکھاجائے اہم معاملات پرہم سے مشاورت کی جائے بصورت دیگرمزاحمت کی جائیگی۔

متعلقہ عنوان :