اچھی طرز حکمرانی قوموں کی ترقی کی کنجی ہے ،رضا ہارون، سیکریٹری جنرل پاک سر زمین پارٹی

بدھ مئی 23:29

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) اچھی طرز حکمرانی قوموں کی ترقی کی کنجی ہے جس کی ابتدا آئین کے آرٹیکل 140A کے مطابق نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاک سر زمین پارٹی کے سیکریٹری جنرل رضا ہارون نے الف اعلان کی جانب منعقدہ نیشنل ایجوکیشن کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ الف اعلان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں سے اعداد و شمار جمع کرنا اور تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے لیے بنیادی ایجنڈے پر اتفاق رائے کے لیے جمع کرنا کڑی محنت اور کوشش کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک وزیر اعلیٰ اور ایک صوبائی وزیر کے زیر انتظام تعلیم اور صحت کے شعبے کا نظام چلانے کی کوشش کرکے کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

(جاری ہے)

18 ویں ترمیم سے وفاق سے صوبوں کو اختیارات اور وسائل منتقل ہو گئے جسے بہتری کی جانب پہلے قدم کے طور پر چاروں اطراف سے سراہا گیا لیکن بد قسمتی سے صوبوں نے منتخب مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرنے میں مزاحمت کی جس کے باعث آج ہمارے تعلیم اور صحت کے شعبے نتیجتاً متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ہم نے اختیارات کی منتقلی کی گاڑی کو بیچ میں روک دیا جس سے مقامی حکومتوں کو با اختیار بنا کر ہمیں شہریوں کو ان کی دہلیز پر سہولیات مہیا کرنی تھیں۔

تمام سیاسی جماعتوں کا آرٹیکل 140A کے مطابق لازمی طور پر اختیارات اور وسائل کا میئر، ڈسٹرکٹ چیئرمین اور یوسی کی سطح تک منتقلی پر اتفاق ضروری ہے جو کہ صحت اور تعلیم کے شعبے سے شروع ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی جمہوریت اور اچھی طرز حکمرانی کے لیے میرٹ کی بالادستی انتہائی ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کا اس پر بھی اتفاق ناگزیر ہے کہ سماجی شعبوں خاص طور پر تعلیم اور صحت کے محکموں کے سربراہ کے طور پر تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ٹیکنوکریٹس اور دانشوروں کو رکھا جائے۔

غذائی قلت بھی ایک اہم مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے اس لیے غذائی قلت پر بین الاقوامی این جی اوز کے ساتھ مل کر خوراک کلبندی پروگراموں میں سرمایہ کاری کرنا ضروری ہے۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صفائی کی سہولیات اور اسکولوں تک نقل و حمل کے لئے وسائل کی صورتحال انتہائی خراب ہے جس میں بہتری غریب و متوسط طبقے کی زندگیوں میں بہتری کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

رضا ہارون نے آخر میں چاروں صوبوں کے تعلیمی محکموں کے ساتھ شراکت داری میں الف اعلان کی جانب سے تعلیمی ڈیٹا جمع کرنے کی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم ایک قوم کی حیثیت سے ایک قابل اعتماد مردم شماری کے اعداد و شمار حاصل نہیں کر لیتے جو تمام تر اعتراضات سے پاک ہو تب تک وسائل کی علاقائی، ثقافتی، روایتی اور صنفی بنیادوں پر منصفانہ تقسیم یقینی نہیں بنا سکتے جس کے بغیر پاکستان کی ترقی ناممکن ہے۔ انہوں نے کراچی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کم از کم 25 ملین کی آبادی والے شہر کی آبادی کو 16 ملین دکھایا گیا ہے اس طرح یہ 9 ملین انسانوں کی صاف پانی،، سیوریج، بنیادی ڈھانچے، اسکولوں، صحت کی سہولیات کا فرق موجود رہے گا۔