ثقافت کے زندہ امین ایوارڈمیں ہندکووان فنکاروں کونظراندازکرناافسوسناک ہے،ضیاء الحق

بدھ مئی 23:42

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ڈائریکٹراور ممتاز کالم نگار ضیاء الحق سرحدی نے اپنے ایک بیان میںکہا کہ گزشتہ ہفتے نشتر ہال پشاور میں منعقد ہونے والی ’’ثقافت کے زندہ امین‘‘ ایوارڈتقریب میں خیبر پختونخوا کے 500 ہنرمندوں کو30 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ دینے کا اعلان کیا گیامگراس میں ہندکووان موسیقاروں، شعراء ، ادباء اور خطاطوںکو نظر اندازکرنا افسوسناک امر ہے۔

ضیا ء الحق سرحدی جو کہ گندھارا ہندگو بورڈکے ڈائریکٹربھی ہیںنے کہا کہ ہندکوصوبے کی دوسری بڑی زبان ہے اور اس کے بولنے والے خیبر پختونخوا کے علاوہ ملک کے طول و عرض میںبڑی تعداد میں موجودہیںمگرمحکمہ ثقافت خیبر پختونخوا کی جانب سے ہندکووان فنکاروںسے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا گیا، انہوں نے کہا کہ فن سے وابستہ لوگ اپنی قوم اور ملک کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیںاور ہندکو زبان کے موسیقار، شعراء اور ادباء اپنے اپنے فن میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں مگر ان کو مذکورہ اعزازئیے میں نظر انداز کرنا ان کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواپرویز خٹک ، وزیر برائے کھیل وثقافت محمود خان اور سیکرٹری ثقافت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ ہندکووان فنکاروں کو بھی ان کا حق دلوانے کے احکامات جاری کئے جائیں۔

متعلقہ عنوان :