حیدرآباد، سندھ میں پانی کی قلت اور بجلی کی طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کیخلاف پیپلزپارٹی کا احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا

بدھ مئی 23:44

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) سندھ میں پانی کی قلت اور بجلی کی طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کیخلاف پاکستان پیپلزپارٹی حیدرآباد کی جانب سے قومی شاہراہ پر ہٹری بائی پاس کے قریب احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا گیا۔ جس میں بڑی تعداد میں پارٹی کے مرد اور خواتین کارکنان نے شرکت کی۔ دھرنے میں موجود کارکنان خالی مٹکے اور لالٹین اُٹھائے ہوئے تھے ۔

دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہاکہ آج سندھ سراپا احتجاج بنا ہوا ہے ۔ ہم پارلیمنٹ کے اندر سندھ میں پانی کی قلت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کرتے رہے لیکن کوئی سنوائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے دشمنوں نے جس طرح پاکستان کو کمزور کیا ہے وہ ملک کی تاریخ کا سیاہ باب ہے، پیپلزپارٹی نے 18ویں ترمیم میں صوبوں کو بااختیار بنایا لیکن آج کے حکمران پھر وفاق کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)

سندھ بھر میں پانی نہیں ہے ، حکومت چشمہ لنک کینال کو بند کرے ، انہوں نے کہاکہ ہم پانی پر سیاست کرنا نہیں چاہتے ، ہماری کمزوری کو خاموشی نہ سمجھا جائے۔ پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ حکومت بھارت سے کہتی ہے بگلہیار ڈیم نہ بناؤ کیونکہ پاکستان ٹیل پر ہے لیکن یہی حکمران ملک کے ٹیل پر موجود سندھ کو پانی دینے کو تیار نہیں۔

یہ حکمران جھوٹے اور بدعنوان ہیں اور نااہل ثابت ہوچکے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات مولابخش چانڈیو نے کہا کہ وفاقی حکومت کے سامنے ہماری چیخ و پکار کی کوئی اہمیت نہیں ، اب اس جگہ پر سیاست پہنچادی گئی ہے جہاں نفرت جنم لے رہی ہے۔ ہمارا احتجاج وفاقی وزراء کے چہروں پر طمانچہ ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہاکہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کربلا بن گیا ہے۔ لوگ بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں۔ لیکن وفاقی حکومت بے حس بنی ہوئی ہے۔