منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کی خواہشوں سے ملک کیسے چلے گا،جاوید ہاشمی

نواز شریف کیساتھ نیب کا بھی احتساب ہو نا چاہئے،ہم اداروں کو بحال کر نا چاہتے ہیں سہارے لے کر اقتدار میں آنا کبھی نہیں سیکھا نواز شریف کی طرح بھٹو اور سہر وردی کی بھی فوج سے نہیں بنی عمران خان ہر قیمت پر وزارت عظمی کی خواہش رکھتے ہیں، بزنجو اور سنجرانی کی طرح وفاق میں بھی اپنا بندہ لانے کی کوشش ہو رہی ہے،نجی ٹی وی کو انٹر ویو

جمعرات مئی 00:06

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) مسلم لیگ ن کے جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کی خواہشوں سے ملک کیسے چلے گا۔ نواز شریف کیساتھ نیب کا بھی احتساب ہو نا چاہئے۔ ہم اداروں کو بحال کر نا چاہتے ہیں۔ سہارے لے کر اقتدار میں آنا کبھی نہیں سیکھا نواز شریف کی طرح بھٹو اور سہر وردی کی بھی فوج سے نہیں بنی۔ عمران خان ہر قیمت پر وزارت عظمی کی خواہش رکھتے ہیں۔

بزنجو اور سنجرانی کی طر ح وفاق میں بھی ا پنا بندہ لانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ گزشتہ روز نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ایوب خان کے خلاف او ربھٹو کا حا می بننے پر جیل ہوئی ،کوڑے کھائے ۔ کسی لالچ یا مفاد کے لئے جماعت نہیں بدلی نہ ہی مشکل وقت میں پارٹیوں کو چھوڑا ہے ۔

مشکل وقت میں اور اقتدار کے وقت ہر دم مسلم لیگ کے ساتھ کھڑا رہا۔

ن لیگ چھوڑ کر عمران خان کے ساتھ گیا لیکن ان کو بتایا کہ میں باغی ہوں۔ عمران خان نے اقتدار کے لئے سہارا لینے کا فیصلہ کیا تب پی ٹی آئی کو چھوڑنا پڑا ۔ میڈیا عوام اور سول سوسائٹی کا مشکور ہوں کہ ہر دور میں میرے ساتھ کھڑے رہے انہوںنے کہا ہے کہ نواز شریف کے بیان کے مطابق قومی کمیشن بننا چاہئے۔ ہماری عسکری قیادت کی سوچ کچھ اور ہے نواز شریف کی کچھ اور ہے تین دفعہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو اپنا بیانیہ بدلنے پر مجبور کیا گیا ۔

ہر دور فوج اور سول حکومت میں ایک دوسرے کے حوالے سے بدگمانی رہی، حسین شہید سہروردی سے نواز شریف تک ہر دور میں فوج کے ساتھ اختلاف چلتا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ عمران خان سمجھتا ہے کہ وہ ہرقیمت پر وزیراعظم بننا چاہتے ہیں میں نے کبھی شیخ مجیب الرحمن کو غدار نہیں کہا۔ ایوب خان کو کہا ہے کہ جب ملک ٹوٹ رہا تھا تو ان نا دیدہ قوتوں کا راستہ کیوں نہیں روکا۔

بلوچستان پر اس وقت فوج کی حکومت ہے۔ عوامی حکومت کو ہٹا کر اپنی طرف سے ایک شخص کو وزیراعلیٰ بنایا گیا جسے کا مجھے نام بھی نہیں پتہ ،سنجرانی کا قصہ بھی اسی طرح کا ہے۔ میرا نیب پر کوئی ایمان نہیں ہے۔ نیب وہ ادارہ ہے جو بندے کی عزت تار تار کرتا ہے۔ میڈیا کہتا ہے کہ راحیل شریف نے ڈان لیکس سے مریم نواز کا نام نکال دیا انہوں نے مزید کہا ہے کہ نواز شریف کا احتساب ہونا چاہئے اور انکو جواب دینا چاہئے لیکن سوال یہ ہے نیب کا چیئر مین پہلے ریٹائرڈ جنرل ہوتا تھا اور مشرف دور میں جتنے کرپشن کیس تھے آج تک اس کا ایک کرپشن کیس نہیں پکڑا گیا۔

سپریم کورٹ کی عزت کرتا ہوں لیکن اس سپریم کورٹ نے انصاف نہیں کیا۔ افتخار چوہدری نے پانچ سال میری ضمانت نہیں لی تھی میری جان چلی جائے یا گردن کٹ جائے سپریم کورٹ کی عزت ووقار مجروع ہونے نہیں دینگے۔ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ جب پی ٹی آئی میں شامل ہوا تو عمران خان کو میرے بارے میں اصٖغر خان ن کیس کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے کیس کو دیکھاہے جاوید ہاشمی کا سب کچھ کلیئر ہے۔

ایسی باتیںمت کریں۔ آج عمران خان دوبارہ پرانا نام لے رہے ہیں۔ یوٹرن لینا ان کا وطیرہ ہے اللہ کا کرم ہے میری ہر جائیداد کلیئر ہے۔ او رنیب نے اسے تصدیق بھی کیاہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ن لیگ کی پارٹی میٹنگ میں کہا تھا کہ جس سیاستدان کا پیسہ باہر ہے اسے پاکسان میں لے کر آئیں شاید اس وقت نوا زشریف کو اچھا نہیں لگا ہو گا۔ اسی وجہ سے آج ان کے اوپر الزام لگا کر وزارت عظمی کے منصب سے ہٹایا گیا۔

سپریم کورٹ نے نواز شریف کو مجرم نہیں بنایا یہ نیب ہے جو اپنے اختیارات سے تجاویز کر رہی ہے۔ کسی کی جرات نہیں ہے کہ پرویز مشرف کو ہاتھ لگائے قانون انصاف اگر سب کے لئے برابر ہے تو ان کو بھی قانون کے کٹہرے میںلانا ہو گا انہوں نے مزید کہا ہے کہ آئندہ الیکشن میں دو حلقوں سے انتخابات لڑنے کا پروگرام ہے لیکن یہ پارٹی کی مرضی ہے کہ کون سے حلقے کا ٹکٹ دینگے۔

Your Thoughts and Comments