عمران خان کی دہشت گردی عدالت سے بریت کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج

ْ بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ٹرائل چلانے کی ہدایات جاری کی جائیں،وفاقی حکومت کی اپیل

جمعرات مئی 00:06

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے دیے گئے سابق ایس ایس پی آپریشنز عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں بریت کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے دائر اپیل میں کہا گیا ہے کہ بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ٹرائل چلانے کی ہدایات جاری کی جائیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 4 مئی کو عمران خان کی مقدمے سے بریت کی درخواست منظور کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی اپیل میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایف آئی آر میں خاص کردار کے ساتھ ملزم نامزد کیا گیا تھا۔۔عدالت میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عمران خان کا جرم ثابت کرنے کے لیے شواہد اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں مگر ٹرائل کورٹ نے جلد بازی میں بغیر ٹرائل بریت کی درخواست منظور کرنے کا فیصلہ سنایا۔حکومت کی جانب سے درخواست کی گئی ہے کہ ہائی کورٹ،، انسداد دہشت گردی کے 4 مئی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر عمران خان کے خلاف قانون کے مطابق ٹرائل چلانے کا حکم جاری کرے۔

Your Thoughts and Comments