سپریم کورٹ تمام صوبوں کے حکام کو کالا باغ ڈیم پر طلب کرکے تعمیر یااس پر ریفرنڈم کرانے کا حکم د ے

مرکزی صدر تحریک استقلال رحمت خان وردگ کا بیان

بدھ مئی 23:50

اٹک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آئی این پی۔ 16 مئی2018ء) مرکزی صدر تحریک استقلال رحمت خان وردگ نے کہاہے کہ سپریم کورٹ تمام صوبوں کے حکام کو کالا باغ ڈیم پر طلب کرکے تعمیر کا حکم دے یا ریفرنڈم کرانے کا حکم دیا جائے ،سندھ میں شہبازشریف کا کالا باغ ڈیم مخالف بیان قابل مذمت ہے اور ملک کو مزید اندھیروں اور بدحالی کا شکاربنانے کا مضمرہوگا کالاباغ ڈیم پر تحریک انصاف بھی الیکشن سے قبل اپنا موقف پیش کرے ۔

بدھ کو اپنے ایک بیان میں تحریک استقلال کے مرکزی صدر رحمت خان وردگ نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے اپیل کی ہے کہ وہ 22 کروڑ عوام پر رحمت کرنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر کالا باغ ڈیم کے متعلق ایکشن لے کر چاروں صوبوں سے اس متعلق موقف لیں اور ماہرین پر مشتمل غیرجانبدارکمیٹی تشکیل دیکر صوبوں کی جائز شکایات کا ازالہ کرکے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو ممکن بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرکے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا حکم صادر کریں یا اس معاملے پر ریفرنڈم کا حکم جاری کیا جائے۔

(جاری ہے)

سندھ کے تحفظات دور کرنے کے لئے پہلے سندھ میں 3 چھوٹے ڈیم خیرپورمیرس‘ سیہون اور جامشورو میں تعمیر کرکے سندھ کی سال بھر کی ضرورت کا پانی ان میں اسٹور کیا جائے اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر جلدازجلد ہونے سے ہی ملک میں خوشحالی کے نئے دورکا آغاز ہوسکتا ہے۔سندھ میں جتنی کچی نہریں ہیں انہیں پختہ کرنے کیلئے وفاق فنڈز دے۔سندھ کو وافر پانی فراہمی کی آئینی گارنٹی دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں شہبازشریف کا کالاباغ ڈیم مخالف بیان قابل مذمت ہے کیونکہ کالا باغ ڈیم ملک کے وسیع تر مفاد کا منصوبہ ہے جس سے زراعت کے لئے سال بھر وافر پانی اور سستی ترین بجلی میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر چھوٹے صوبوں کے جائز تحفظات ہیں تو ان کو فوری طور پر حل کرکے کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ عوام سے خطاب میں لوگوں کو بے وقوف بنانے والے اس عظیم ترین منصوبے پر پارلیمنٹ میں کیوں خاموش ہیں انہوں نے تحریک انصاف سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ کالا باغ ڈیم کے متعلق پارٹی پالیسی الیکشن سے قبل عوام کو جاری کی جائے کیونکہ اس معاملے پر منافقانہ سیاست کی جاتی ہے۔

میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ جس پارٹی کے منشور میں فوری طور پر بڑے آبی ذخائر بشمول کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا ذکر نہ ہو اس کو کسی صورت ووٹ نہ دیں کیونکہ وافرپانی اور سستی بجلی ملک کی بنیادی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 1991ء کے واٹر ایکارڈ سے قبل رقبے کے لحاظ سے پنجاب کو 56% پانی ملتا تھا 1991ء کے واٹرایکارڈ کے بعد سندھ پنجاب کو پانی کا 37-37% ملتا ہے۔لیکن نوازشریف نے اپنی حکومت کے دوران واٹرایکارڈ کرکے پنجاب کے حصے کا پانی دوسرے صوبوں کو دے دیا اور اس قربانی کے بدلے کالا باغ ڈیم کی تعمیر نہ کرکے جرم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیت صاف ہوتو ہرمسئلہ مذاکرات سے حل کیاجاسکتا ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے سنجیدگی کے ساتھ سب کو بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔