سلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے زیراہتمام پیغام پاکستان، علماء کی پرامن ملک کیلئے اہمیت کے عنوان سے سمپوزیم کا انعقاد

بدھ مئی 23:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے زیراہتمام سمپوزیم بعنوان پیغام پاکستان،، علماء کا متفقہ اعلامیہ/ فتویٰ اور پرامن پاکستان کے لیے اس کی اہمیت‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی امور بیرسٹر ظفر اللہ خان تھے۔ اس موقع پر کونسل کے علمی و فکری جریدے ’’اجتہاد‘‘ کے شمارہ نمبر ۱۱ کی رونمائی بھی کی گئی، تقریب میں ڈاکٹر ضیاء الحق، ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحقیقات اسلامی، ڈاکٹر معصوم یسٰین زئی، ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اراکین کونسل اور مختلف جامعات کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

چیئرمین کونسل، ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اپنے افتتاحی خطاب میں رسالہ اجتہاد کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ رسالہ اجتہاد اسلامی نظریاتی کونسل کا فکری و علمی مجلہ ہے اور زیرنظر شمارہ میں ایچ ای سی اور سیرت چیئر، پشاور یونیورسٹی کے زیراہتمام دو روزہ ورکشاپ: بین المذاہب و سماجی ہم آہنگی کی رپورٹ کو شامل گیا ہے جس میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی تقریر خصوصی مطالعہ کی متقاضی ہے۔

(جاری ہے)

اس تقریر میں جامعات میں قائم نو (۹) مسانید سیرت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور احسن اقبال کی کوششوں سے ان مسانید سیرت کے لیے ۰۴ کروڑ روپے کا وقف فنڈ قائم کیا گیا ہے، چیئرمین کونسل نے احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ مسانید سیرت کے قیام کے بانی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانونی امور بیرسٹر ظفر اللہ خان نے پیغام پاکستان کے حوالے سے اپنے کلیدی خطاب میں اقلیتوں کے حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میثاق مدینہ پہلا تحریری دستور ہے جس کی دفعات میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی اور قرآن پاک اور سیرت طیبہ کی روشنی میں اقلیتوں کے حوالے سے ہمارا رویہ مسؤلیت کا ہے اور ہم روزِآخرت ان کے حقوق کے حوالے سے جوابدہ ہیں اور کئی احادیث مبارکہ میں اقلیتوں کے حقوق کی تاکید کی گئی ہے۔

انہوں نے پیغام پاکستان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم پیغام پاکستان کے کام کو آگے بڑھانا ہے اور اس پیغام کے ہر پہلو پر کام کرنے کی ضرورت ہے خصوصاً اس کے خاص پہلو اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ضروری ہے کہ اسلامی احکام کی روشنی میں ہم اپنے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں،اسلامی نظریاتی کونسل ایک مؤقر آئینی ادارہ ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس میں جید علماء کو نمائندگی دی جائے اور جلد نئے اراکین کی تقرری کی جائے۔

چیئرمین کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اپنے اختتامی کلمات میں تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پیغام پاکستان کے اعلامیہ میں تمام مکاتب فکر کے علماء کا اتفاق ہے اور یہ اعلامیہ پاکستان کو دنیا میں ایک امتیازی حیثیت سے روشناس کرا رہا ہے۔ مصر کے مفتی اعظم نے بھی اس پیغام کی توثیق کی ہے۔ اس پیغام کو دیگر ممالک میں بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور وہ اس پیغام کی دستاویزات سے استفادے کے خواہاں ہیں۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اپنے خطاب میں پیغام پاکستان کے حوالے سے ڈاکٹر ضیاء الحق اور ڈاکٹر معصوم یسٰین زئی کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے رسالہ اجتہاد کے حوالے سے کہا کہ اگلا شمارہ ’’مسلمان اور غیر مسلم اکثریتی معاشرے‘‘ کے موضوع پر ہوگا جس میں دنیا میں موجود مسلم اقلیات کے سماجی، معاشی اور مذہبی مسائل کو اجاگر کیا جائے گا۔