بلوچستان ہائیکورٹ میں ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت

بدھ مئی 23:50

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آئی این پی۔ 16 مئی2018ء) بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد نو ر مسکا نزئی اور جسٹس محمد ہا شم خان کاکڑ پرمشتمل بینچ کے روبرو ٹرانسفر پوسٹنگ سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت ہوئی درخواست کی سماعت کے دوران سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی عبدالرحمن بزدار ،ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان رئوف عطاء ایڈووکیٹ ،درخواست گزار منیراحمدکاکڑایڈووکیٹ،نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ ودیگر پیش ہوئے سماعت شروع ہوئی تو ایڈوو کیٹ جنرل بلوچستان رئوف عطاء ایڈووکیٹ نے مختلف آرٹیکلز پڑھ کر سنائے اوران کی روشنی میں دلائل دئیے اس پر جسٹس محمدہاشم خان کاکڑ نے ان سے مکا لمہ کرتے ہوئے کہاکہ بطور چیف لاء آفیسر عدالت انہیں سنے گی ،سول سرونٹس کے بغیر کوئی بھی صوبے کو نہیں چلا سکتا ،ایک آفیسر مقابلے کے امتحانات پاس کر کے 50انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کرکے تربیت حاصل کرتاہے جس کے ذریعے وہ مختلف شعبوں میں انتظامی معاملات کو چلانے کی صلاحیت رکھتاہے لیکن ایک عام آدمی منتخب ہونے کے بعدآکر اسے کہے کہ وہ اس سے بہتر طریقے سے معاملات جانتاہے یہ عجیب ہے سماعت کے دوران منیراحمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہاکہ 2نائب قاصد کو گوادر اور ایک اور دورافتادہ علاقے ٹرانسفر کردیاگیاہے جوانتقامی کارروائی کے سوا کچھ نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ خزانہ سیکرٹریز کی ٹرانسفر کی وجہ سے وکلاء کو معاوضے کی رقم میں تاخیر ہوئی بلکہ مختلف محکموں میں آئے روزکے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے احکامات کے باعث گڈ گورننس کمزور ہورہاہے قانون کے مطابق کسی بھی ملازم کو جس کے خلاف کسی قسم کی شکایات نہ ہو کو تین سال تک ٹرانسفر نہیں کیا جاسکتا ،جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے کہ ہم بھی اس معاملے کا مستقل حل چاہتے ہیں ۔

نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ نے کہاکہ یہاں گریڈ 17کے آفیسرگریڈ20کے پوسٹ پر کام کررہے ہیں ،بینچ نے سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی عبدالرحمن بزدار سے استفسار کیاکہ صوبے میں کل کتنے سول سرونٹس ہے اور انہیں کون لیڈ کررہاہے اس پر عبدالرحمن بزدار نے بتایاکہ صوبے میں ڈیڑھ لاکھ سول سرونٹ کام کررہے ہیں جس کے بعد عدالت کے ججز نے ریمارکس دئیے کہ کیوں نہ اس سلسلے میں چیف سیکرٹری کو بلا کر ان کا بیان قلم بند کرلیاجائے جس کے بعدصورتحال مزید واضح ہوجائے گی بعد ازاں آئینی درخواست کی سماعت کو ملتوی کردیا گیا۔