بھارت نے جموںوکشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کرکے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے ، سید علی گیلانی

جمعرات مئی 11:50

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مقبوضہ علاقے کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے بھارت اور اس کے گماشتوں نے جموںوکشمیر کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کر کے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہا کہ بھارتی وزیر اعظم کے دورے سے قبل مقبوضہ وادی میں شہریوں کویرغمال بنالیا گیا ہے ۔

انہوںنے بڑھتی ہوئی قتل غارت اور بلا جواز نظر بندیوں اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محکوم کشمیریوں کے خلاف مظالم کا سلسلہ رمضان المبارک میںبھی کم ہوتا نظر نہیں آرہا۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ کٹھ پتلی حکومت ہندو انتہا پسند تنظیموں راشٹریہ سویم سنگھ اور شیو سینا کے ایجنڈے کو مقبوضہ علاقے میں آگے بڑھا کر یہاں کے مسلم اکشریتی تشخص کو زوال پذیر کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قابض انتظامیہ شہداء کے جنازوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت سے سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اب اس نے جنازروں میں شرکت کرنے والوں پر بھی کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر نا شروع کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک حریت کے رہنما محمد رفیق اویسی اور جماعت اسلامی کے رہنما بشیر احمد لوں پر بھی محض اس لیے کالا قانون پی ایس اے لاگو کیا گیا کیوںکہ انہوں نے شہید پروفیسر محمد رفیع بٹ کی نمازجنازہ میں شرکت کی تھی۔

سید علی گیلانی نے کہااکہ سرینگر کے علاقے بٹہ مالو کے منظور احمد خان گزشتہ بارہ برس سے غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں اور ان پر لاگو کالا قانون عدالت کی طرف سے کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود انہیں سینٹرل جیل سرینگر سے رہا نہیں کیا جا رہا ۔سید علی گیلانی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ہفتے کو ہونے والے مقبوضہ علاقے کے دورے سے قبل ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رُکن ایڈوکیٹ شبیر بخاری کے علاوہ سوپور، بارہ مولہ، شوپیاں، کولگام، اسلام آباد، بانڈی پورہ، سرینگر،، بڈگام اور دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں نوجوانوںکی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو ہرگز دبایا نہیں جاسکتا۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ مقبوضہ وادی کے نظر بندوں کواپنے گھروں سے دور جموں خطے کی جیلوں اور بھارت ریاستوں کی جیلوں میں رکھا جاتاہے حالانکہ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنی ایک رولنگ میں نظربندوں کو اپنے گھروں کی نزدیک ترین جیلوں میں رکھنے کے احکامات دے رکھے ہیں۔انہوںنے کہا کہ نظر بندو ںکو جیلوں میں طبی سمیت تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے انکی صحت بری طرح سے متاثر ہور ہی ہے۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ دور دراز کی جیلوں میں ہونے کی وجہ سے نظر بندوں کے اہلخانہ کو انکے ساتھ ملاقات میں بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیدعلی گیلانی نے نظر بندوں کے عزم وہمت کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے کہا کہ شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیرسیف اللہ، راجہ معراج الدین، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، شاہد یوسف، تاجر ظہور احمد وٹالی، محمد سلیم وانی کے علاوہ مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، مظفر احمد ڈار، نذیر احمد شیخ، غلام محمد خان سوپوری، امیرِ حمزہ شاہ، محمد یوسف فلاحی،میر حفیظ اللہ، محمد یوسف میر، اسی سالہ ، محمد سبحان وانی ، شکیل احمد یتو، عبدالغنی بٹ، محمد رمضان خان، فاروق توحیدی، فاروق احمد ڈار، فاروق احمد شیخ، بھدرواہی، شکیل احمد صوفی، منظور احمد نجار، عاشق حسین بٹ، بشارت احمد میر، سجاد احمد بٹ، مشتاق احمد گنائی، مشتاق احمد ملہ، محمد امین راتھر اور دیگر نظر بندوں کی عظیم قربانی کو کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔