پاکستان کپاس کی پیداوار میں دنیا بھر میں چوتھے ،کماد اور آم میں پانچویں، ترشاوہ پھلوں میں چھٹے، چنے میں ساتویں، گندم و پیاز میںآٹھویں، دھان میں گیارہویں، تیل دارا جناس میں بارہویں اور سبزیات میں سولہویںنمبر پرآگیا

جمعرات مئی 12:22

فیصل آباد۔17 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) رقبے کے لحاظ سے دنیاکا 37واں بڑاملک پاکستان کپاس پیداکرنے والے ممالک میں چوتھے ،کماد اور آم کی پیداوارمیںپانچویں،ترشاوہ پھلوں کی پیداوار میں چھٹے، چنے میں ساتویں، گندم وپیاز میںآٹھویں، دھان میں گیارہویں، تیلدارا جناس میں بارہویں اور سبزیات میں سولہویںنمبر پرآگیاہے ۔ ماہرین زراعت نے بتایاکہ مقامی زرعی تحقیقاتی ادارہ کی طرف سے گزشتہ چندسالوں میں مختلف فصلوں، پھلوں اور سبزیوںکی70 کے قریب نئی اقسام متعارف کرائی گئی ہیںجوموسمی حالات کا بہترمقابلہ کرنے کے ساتھ زیادہ پیداواری صلاحیت کی بھی حامل ہیں۔

انہوںنے بتایاکہ ادارہ ہذا میں تیار کی گئی گندم کی اقسام پاکستان کی99فیصد، کماداقسام92فیصد ،کپاس اقسام 95فیصد اور دھان اقسام 88 فیصدرقبہ پر کاشت ہورہی ہیں جوکہ ادارہ کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتایاکہ ادارہ میں پنجاب ایگر کلچرل ریسرچ بورڈ اور انٹر نیشنل اداروں کے فراہم کردہ فنڈز کے ذریعے گندم ، کپاس ،تیلدار اجناس ، دالوں پھلوں اور سبزیوں کی نئی اقسام کی تیاری اورویلیوایڈیشن کے کئی منصوبوںپر تحقیقی کام جاری ہے۔

انہوںنے بتایاکہ زرعی تحقیق کے لیے تربیت یافتہ ہیومن ریسورس اور بجٹ کی کمی کے مسائل ہونے کے باوجود ادارہ ہذا کے سائنسدان تمام فصلوں کی نہ صرف نئی سے نئی اقسام کا میابی سے تیارکررہے ہیں بلکہ ان کی پیداواری ٹیکنالوجی میں بہتری کے لیے نت نئے تجربات بھی کررہے ہیں جس کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔