جنرل بپن راوت ہمیشہ کیلئے تاریخ میں گم ہو کر رہ جائیں گے‘ڈاکٹر نذیر گیلانی

بھارت سمیت دنیا کی کوئی فوج عوام کی خواہشات کے برخلاف جنگ نہیں جیت سکتی

جمعرات مئی 12:53

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) انسانی حقوق کے بارے میں جموںوکشمیر کونسل کے چیئرمین اور ممتاز کشمیری قانون دان ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کہاہے کہ بھارتی فوج کا کشمیر میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے اورجموںوکشمیر کے عوام اورانکے ہمدردوںکو بھارتی تسلط کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرنے کا حق حاصل ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈاکٹر نذیر گیلانی نے جو پاکستان کے دورہ پر ہیں بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے حالیہ بیان کہ ’’آزادی ممکن نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی فوج کے ساتھ لڑ نہیں سکتا ‘‘پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان کا کوئی جواز نہیں ہے ۔

انہوںنے کہاکہ دنیا کی کوئی فوج عوام کی خواہشات کے برخلاف جنگ نہیں جیت سکتی اور بھارتی فوج بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر نذیر گیلانی نے واضح کیاکہ برطانوی فوج برصغیر کے عوام ، روسی فوج افغان عوام ، سرب فوج کروشیااور بوسنیا کے عوام کو محکوم نہیں رکھ سکیں۔ انہوںنے مذید کہاکہ کشمیری عوام کے خلاف بھارتی فوج کا انجام بھی بالآخر ان سے مختلف نہیں ہو گا اور بھارتی فوجیوں کو جنگی جرائم پر ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں مقدمات کاسامنا کرنا پڑے گا ۔

جموںوکشمیر کونسل کے چیئرمین نے پانچ فریق /انٹرسٹ گروپوں کو حوالہ دیا جن کا بھارت کو سامنا کرنا پڑے گا ۔انہوںنے کہاکہ ان گروپوں کی نشاندہی برطانیہ نے 5فروری 1948کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کی تھی ۔۔ڈاکٹر نذیر گیلانی نے کہاکہ ان گروپوں میں سرینگر ، مظفر آباد اور گلگت میں مقیم کشمیری ، پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی پانچ نسلیںاور دنیا بھر میں بڑی تعداد میں موجود کشمیری شامل ہیں۔

ڈاکٹر نذیر گیلانی نے کہاکہ جنرل بپن راوت کی فوج کشمیریوں کے ان گروپوں سے لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور انہوںنے بھارت کومستقبل میں جنگی جرائم کی علامت قراردیا۔ ڈاکٹر نذیر گیلانی نے تنازعہ کشمیر سے متعلق قانونی پہلوئوں کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے کہاکہ جنرل راوت کی فوج 15جنوری 1948کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی طرف سے الحاق سے دستبردار اور عالمی دارے کی زیر نگرانی رائے شماری کرانے پر متفق ہونے کے بعد جموںوکشمیر کی متنازعہ ریاست پر قابض رہنے کاجواز کھو چکی ہے ۔

جموںوکشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی کی پہلی شرائط کے تحت فوج کو ذیلی اور ماتحت فوج کا کردار دیاگیا تھا ۔ ڈاکٹر نذیر گیلانی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ بھارتی فوج کو واپس بھیجنے کا حق رکھتی ہے اور برطانیہ کی طرف سے جن پانچ فریق گروپوں کی نشاندہی کی گئی ہے ،انہیں دوبارہ متحد ہو کر بھارتی تسلط کے خلاف جدوجہد کرنے کا حق حاصل ہے ۔

انسانی حقوق کے بارے میں جموںوکشمیر کونسل کے چیئرمین نے مقبوضہ کشمیر کی حکومت سے کہاکہ وہ بھارتی شہریوں کیلئے ویزہ کے قواعد و ضوابط بحال کرے جسے بھارتی وزیر اعظم نے 31مارچ1959کو غیر قانونی طورپر ختم کردیا تھا اور بھارتی فوج کی کشمیر میں عارضی طورپر موجودگی کی اجازت ختم کرے اوراقوا م متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عبوری ،ذمہ دار اور نمائندہ حکومت کی ذمہ داری سنبھالے ۔

انہوںنے حکومت پاکستان سے کہاکہ وہ بھارتی آرمی چیف کے اس رویہ کی شکایت اقوام متحدہ میں درج کرائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت تشکیل دیے گئے 5فریق گروپوں کو مسلسل معطل رکھ کر لوگوں کے سیلف ڈیفنس پرمذید کوئی سمجھوتہ نہ کیاجائے ۔جموںوکشمیر کے عوام اور انکے ہمدرد وںکو بھارتی تسلط کے خاتمے کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا حق حاصل ہے ۔

ڈاکٹر نذید گیلانی نے کہاکہ بھارت کے کشمیرپر تسلط کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ شیخ عبداللہ کی طرف سے انکے حق میں فراہم کی جانیوالی ایک ضمانت کہ انکی نگرانی کیلئے اقوام متحدہ کا کمیشن وہاں موجود ہوگا تاہم یہ کمیشن ابھی تک قائم نہیں کیاگیا ہے ۔کشمیرمیں بھارتی فوج کی موجودگی اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کی گئی تین پابندیوں کی بھی خلاف ورزی ہے جن میں انکی تعداد ، رویہ اور تعیناتی کے مقامات شامل ہیں۔

ڈاکٹر نذیر گیلانی نے بھارت کی سول سوسائٹی سے کہاکہ وہ بھارتی آرمی چیف کے بیان کا نوٹس لیں اور انہیں خبردار کریں کہ وہ جنرل ہیری ڈائیر کی طرح تاریخ میںگم ہو کر رہ جائیں گے ۔انہوںنے کہاکہ اگر جلیاں والہ باغ قتل عام کے ذریعے بھارت کے عوام کے عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکا تو بھارتی فوج کیسے کشمیر ی عوام سے لڑ سکتی ہے