شمالی کوریا کی طرف سے سربراہان ملاقات کے بائیکاٹ کی کوئی خبر نہیں ملی،کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں، ٹرمپ

جمعرات مئی 14:04

واشنگٹن۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کیم جونگ اٴْن سے ملاقات کے بعد ہی یہ اندازہ ہوگا کہ آیا دو طرفہ تعلقات میں کیسے پیش رفت ہوسکتی ہے۔بین الاقوامی خبررسان ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار وائٹ ہائوس میں ازبکستان کے صدر سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں شمالی کوریا کی طرف سے کوئی دھمکی نہیں ملی۔ ہم نے ایسی کوئی بات دیکھی نہ سنی آگے کیا ہوتا ہے دیکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیارں سے پاک اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ سے نکالنا چاہتا ہے۔

(جاری ہے)

امریکی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جون میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع ملاقات حالیہ واقعات کے باوجود منسوخ نہیں ہوگی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اس ملاقات کے لیے تیار ہیں۔چند گھنٹے قبل شمالی کوریا نے سخت الفاظ پر مبنی بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے دھمکی دی کہ اگر امریکہ نے شمالی کوریا سے ان کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر زور دیا تو وہ 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات منسوخ کر دیں گے۔۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس ملاقات کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

اور اگر ملاقات نہیں ہوتی تو ہم شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی مہم جاری رکھیں گے۔۔ٹرمپ نے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ امریکا شمالی کوریا پر جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر زور دے گا۔شمالی کوریا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات سے کئی امیدیں وابستہ تھیں لیکن وہ امریکا کی جانب سے دیے گیے حالیے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے 'شدید مایوس' ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ چند روز قبل جان بولٹن نے کہا تھا کہ شمالی کوریا 'لیبیا ماڈل' پر عمل کرے گا جس کے تحت ملک نے جوہری پروگرام ترک کر دیا تھا لیکن کچھ سالوں بعد لیبیا سربراہ معمر قذافی کو مغرب نواز باغیوں نے قتل کر دیا تھا۔