اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک بار پھر فضائی حملوں کا آغاز کردیا ،حماس ٹھکانوں پربمباری

فلسطین نے ہنگری، رومانیہ، آسٹریا اور چیک ری پبلک میں تعینات اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا

جمعرات مئی 14:21

مقبوضہ بیت القدس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک بار پھر فضائی حملوں کا آغاز کردیا ہے جس میں حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔دوسری جانب فلسطین نے ہنگری، رومانیہ، آسٹریا اور چیک ری پبلک میں تعینات اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا جب کہ گزشتہ روز امریکا کی جانب سے سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے بعد ترکی نے اپنا سفیر فوری طور پر واپس بلاتے ہوئے اپنے ملک سے اسرائیلی سفارت کار کو چلے جانے کا حکم دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک بار پھر فضائی حملوں کا آغاز کردیا ہے جس میں فلسطینی تنظیم حماس کے ٹھکانوں کو نشانا بنایا گیا ہے تاہم حملے میں ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

(جاری ہے)

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ رات غزہ کے علاقے سے فائرنگ کی گئی جس میں اسرائیلی فوجیوں اور عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے جواب میں حماس کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

دوسری جانب فلسطین نے ہنگری، رومانیہ، آسٹریا اور چیک ری پبلک میں تعینات اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا جب کہ گزشتہ روز امریکا کی جانب سے سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے بعد ترکی نے اپنا سفیر فوری طور پر واپس بلاتے ہوئے اپنے ملک سے اسرائیلی سفارت کار کو چلے جانے کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ امریکا کے سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) منتقلی کے موقع پر غزہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، اسرائیلی فوج نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے 58 فلسطینیوں کو شہید کردیا جب کہ ا?نسو گیس اور فائرنگ کے نتیجے میں 2700 افراد زخمی ہوگئے تھے۔