اے سی سی اے کے زیر اہتمام ’’بجٹ 2018-19ء اقتصادی اصلاحات کیلئے چیلنجز اور مواقع‘‘ کے موضوع پر مباحثہ انعقاد

مقررین نے منصفانہ ٹیکسیشن کے عالمی معیارات، ٹیکس بیس کو بڑھانے پر بجٹ کے اثرات، کاروباری آسانیوں، عالمی مسابقتی اشاریوں اور سی پیک کی روشنی میں بجٹ کا جائزہ پیش کیا

جمعرات مئی 14:28

اے سی سی اے کے زیر اہتمام ’’بجٹ 2018-19ء  اقتصادی اصلاحات کیلئے چیلنجز ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکائونٹنٹس (اے سی سی ای) نے ’’بجٹ 2018-19ء : اقتصادی اصلاحات کے لئے چیلنجز اور مواقع‘‘ کے موضوع پر مباحثہ کا انعقاد کیا جس کا مقصد پروفیشنلز کو بجٹ 2018-19ء کے ذریعے فنانس ایکٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہ رکھنا تھا۔ یہ مباحثہ حالیہ وفاقی بجٹ کے تحت پاکستان میں موجودہ معاشی اصلاحات کے لئے پیدا کئے جانے والے مواقع اور درپیش چیلنجز پر غور کرنے کا ایک موقع تھا۔

فورم نے ایف بی آر اور دیگر ٹیکس ریگولیٹرز کے ساتھ اپنی رائے کے تبادلہ کیلئے پاکستان کے تمام ٹیکس ماہرین کی مشترکہ آواز بلند کی۔ مقررین میں پارٹنر ٹیکسیشن، ای وائے اینڈ آئی سی اے پی کے کونسل ممبر محمد اویس، آئی سی ایم اے پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عامر اعجاز خان، ایف سی سی اے، چیئرمین اے سی سی اے پاکستان ٹیکسیشن کمیٹی عمر ظہیر میر، چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے پالیسی ایڈووکیسی، ایل سی سی آئی کمال میاں اور ایل ٹی بی اے کے صدر مونم سلطان شامل تھے۔

(جاری ہے)

مقررین نے منصفانہ ٹیکسیشن کے عالمی معیارات، ٹیکس بیس کو بڑھانے پر بجٹ کے اثرات، کاروباری آسانیوں، عالمی مسابقتی اشاریوں اور سی پیک کی روشنی میں بجٹ کا جائزہ پیش کیا۔ اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ سجید اسلم نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سیشن کا مقصد ابھرتے ہوئے پاکستان کے سنگ میل کا حصول ہے جس کی اے سی سی اے نے (آئندہ پانچ سالوں میں اوسطاً) 7 فیصد سے زائد جی ڈی پی کی شرح نمو، کاروباری آسانوں کیلئے سرفہرست 50 ممالک میں درجہ بندی اور عالمی مسابقتی اشاریوں (جی سی آئی) کے لئے سرفہرست 50 ممالک میں درجہ بندی کیلئے نشاندہی کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اے سی سی اے نے معاشرے کے اندر صلاحیت، مہارت اور ٹیلنٹ پیدا کرنے کا عہد کر رکھا ہے جو نہ صرف ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے مدد فراہم کرے گی بلکہ معاشرے کے اعتماد کی سطح کو برقرار رکھنے کیلئے تعاون کرے گی۔ انہوں نے کسی بھی اکائونٹینسی باڈی بشمول اے سی سی اے، آئی سی اے پی، آئی سی ایم اے پی اور آئی سی اے ای ڈبلیو کیلئے بنیادی کردار بننے کیلئے اس کی نشاندہی کی اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ سی پیک صرف مواقع کے لئے نہیں ہے بلکہ اس سے بہت سے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔

انہوں نے منصفانہ ٹیکس کے 12 اصولوں کی تفصیل سے وضاحت کی جنہیں اے سی سی اے کی جانب سے اس کی عالمی ریسرچ بیس کے ذریعے شناخت کیا گیا اور اے سی سی اے کے عالمی ٹیکس فورم کے ذریعے دیگر دنیا میں پیش کیا گیا۔پارٹنر ٹیکسیشن، ای وائے اینڈ آئی سی اے پی کے کونسل ممبر محمد اویس نے اہم خطاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیلز ٹیکس قانون یا کسٹم قانون کے تحت بلاواسطہ ٹیکسیشن نظام کے حوالے سے کچھ تبدیلیاں اس بجٹ میں تجویز کی گئی تھیں جنہیں فوری طور پر نوٹیفیکیشن کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے جبکہ بجٹ میں کئے گئے دیگر اعلانات یکم جولائی 2018ء سے موثر ہوں گے۔

انہوں نے تجویز دی کہ ہماری توجہ دنیا کے دیگر حصوں میں ٹیکس کے نظام سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ بلاواسطہ ٹیکسوں کی بجائے براہ راست ٹیکس پر ہونی چاہئے۔ اس وقت مجموعی ٹیکس ریونیو محاصل کا 37 فیصد حصہ براہ راست ٹیکسوں اور 67 فیصد بلاواسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائلر ٹیکس قاعدہ بلاواسطہ ٹیکسوں کے نظام کو فروغ دیتا ہے اور فائلر رجیم سسٹم کے خاتمے تک بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ براہ راست ٹیکس اور آمدن پر مشتمل ٹیکسیشن نظام میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

ایل سی سی آئی کی پالیسی ایڈووکیسی کے بارے میں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور پاکستان کی کاروباری برادری کی نمائندگی کرنے والی معروف شخصیت کمال میاں نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں سب سے مشکل کام مینوفیکچرنگ ہے۔ انہوں نے کاروبار کرنے کی آسانی کے لئے اے سی سی اے کے وژن کو سراہتے ہوئے کاروباری آسانیوں کیلئے سادگی پر زور دیا۔ آئی سی ایم اے پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عامر اعجاز خان نے نشاندہی کی کہ کاروبار کرنے کی آسانیوں کے پیچھے سب سے اہم مسئلہ سرخ فیتہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلہ سے نمٹنے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے کے لئے ہمیں باقاعدہ فریم ورک کی ضرورت ہے۔