امریکی سفارتکار کرنل جوزف کو چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی

اسلام آباد ٹریفک حادثہ کیس میں نامزد امریکی دفاعی اتاشی کرنل جوزف کو سفارتی استثنیٰ حاصل تھا جس کے تحت وہ چلے گئے ،ْ امریکہ نے مقدمہ چلانے کی یقین دہانی کرائی ہے ،ْ امریکی سفارتخانے و عملے پرمزید پابندیاں نہیں لگائیں ،ْفلسطین کا معاملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہیے ،ْبھارت کے اندر بھی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں ،ْفیض احمد فیض کی بیٹی منزہ ہاشمی کو بھارت بلاکرمحصور کرنا اورخطاب نہ کرنے دینا قابل مذمت ہے ،ْترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ واربریفنگ

جمعرات مئی 15:44

امریکی سفارتکار کرنل جوزف کو چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اسلام آباد ٹریفک حادثہ کیس میں نامزد امریکی دفاعی اتاشی کرنل جوزف کو سفارتی استثنیٰ حاصل تھا جس کے تحت وہ چلے گئے ،ْ امریکہ نے مقدمہ چلانے کی یقین دہانی کرائی ہے ،ْ امریکی سفارتخانے و عملے پرمزید پابندیاں نہیں لگائیں ،ْفلسطین کا معاملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہیے ،ْبھارت کے اندر بھی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں ،ْفیض احمد فیض کی بیٹی منزہ ہاشمی کو بھارت بلاکرمحصور کرنا اورخطاب نہ کرنے دینا قابل مذمت ہے۔

جمعرات کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے نوجوان کو کچلنے والے امریکی سفارتکار کرنل جوزف کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کرنل جوزف کو سفارتی استثنا حاصل تھا اور وہ واپس چلے گئے، ان کے حوالے سے دیت کے معاملے کا علم نہیں ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سفارتکاروں اور سفارتی حکام کو سفارتی استثنا حاصل ہوتا ہے، امریکا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کرنل جوزف پرامریکا میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

امریکا اور پاکستان سفارتکاروں پر پابندیوں سے متعلق صحافی نے ترجمان سے سوال کیاکہ سفری پابندیوں کے جواب میں امریکی سفارتکاروں پر دیگر پابندیاں کیوں لگائی گئیں اس پر ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستانی سفارتکاروں پر سفری پابندیوں پر پاکستان نے جوابی پابندیاں لگائیں، امریکی سفارتخانے و عملے پر مزید پابندیاں نہیں، اضافی سہولیات واپس لی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی سفارتکاروں کو ماضی کی حکومتوں نے چند رعایتیں دی تھیں اور امریکی سفارتکاروں کومتعدد خصوصی سہولیات دے رکھی تھیں، اب ان سے یہ خصوصی سہولیات واپس لے لی گئی ہیں۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ امریکی سفارت کاروں کو مواصلاتی آلات کی تنصیب، سفارتی نمبرپلیٹس کی چھوٹ، شیشے کالے کرنے کی سہولیات اضافی تھیں۔فلسطین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے معاملے پر دو ریاستی حل کا مؤقف اپناتا ہے، فلسطین کا معاملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایران اور پی فائیو معاہدے کی حمایت کرتا رہا ہے ،ْ ایران پر یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ترجمان نے مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اندر بھی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، بھارت دنیا کی نظر مقبوضہ کشمیر سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارتی میڈیا پاکستان کے حوالے سے غیرمعمولی طور پرفعال رہتا ہے۔

منزہ ہاشمی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ فیض احمد فیض کی بیٹی منزہ ہاشمی کو بھارت بلاکرمحصور کرنا اورخطاب نہ کرنے دینا قابل مذمت ہے ۔ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ 15 مئی منگل کو آزاد کشمیر کے علاقے تتہ پانی میں بھارت نے بلااشتعال فائرنگ کی جس سے ایک پاکستانی شہری شہید ہوگیا۔ گزشتہ روز بھارت کے قائم مقام ڈپٹی ہائی کمشنر کو ایل او سی کی خلاف ورزی پر طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ رواں سال اب تک بھارتی فوج 1000 سے زائد مرتبہ ایل او سی اور ورکنگ باونڈری کی خلاف ورزیاں کر چکی ہیں جس کے نتیجے میں 24 شہری شہید اور 107 سے زائد زخمی ہوئے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حریت رہنماؤں نے 19 مئی کو سری نگر کے لال چوک کی جانب مارچ کی کال دی ہے۔

ترجمان نے کہاکہ شوپیاں میں گزشتہ ماہ 40 سے زائد شہادتیں ہوئیں، بھارت دنیا کی نظر مقبوضہ کشمیرسے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کی اندرونی سیاست میں اثرونفوذ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ترجمان نے امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی بھرپور مذمت کرتا ہے، امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے پر ترکی نے او آئی سی کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی شرکت کریں گے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے مزید سوالات کے جوب دیتے ہوئے بتایا کہ افغانستان پاکستان اور چین کے درمیان امن اور یکجہتی پر مذاکرات بھی ہوئے، پاکستان ایران اور عالمی طاقتوں کے معاہدے کی حمایت اور ایران پر یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، انڈونیشیا کے صدر کی پیشکش پر ہمارے علمائے کرام نے انسداد دہشت گردی پر انڈونیشیا میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت بھی کی، امریکا میں نامزد پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کا ایگریما آ چکا ہے جانے کے پروگرام کا علم نہیں۔