قائد حزب اختلاف نے نگران وزیر اعلیٰ کیلئے دو نام دئیے ہیں،

معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جانے پر کوئی اعتراض نہیں ‘ رانا ثنا اللہ

جمعرات مئی 15:55

قائد حزب اختلاف نے نگران وزیر اعلیٰ کیلئے دو نام دئیے ہیں،
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ قائد حزب اختلاف نے نگران وزیر اعلیٰ کیلئے دو نام دئیے ہیں لیکن وہ اپنی پارٹی کو خوش کرنے اور میڈیا کی خبر بنانے کیلئے انکار کر رہے ہیں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا ،نام پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جانے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ،(ق) لیگ عرف پی ٹی آئی نے ایک حلقے میں کئی کئی لوٹے لے لئے ہیں اور دیکھتے جائیں ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد کیسے لوگ انہیں چھوڑ کر جاتے ہیں ، (ن) لیگ سب معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے ،،رمضان المبارک کے دوران ہی لیگی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا جائے گا۔

پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ پوری دنیا میں مسائل کے حل اور گڈ گورننس کے لئے جمہوریت کے سوا کوئی بھی طریق کار مستند ثابت نہیں ہوا ۔

(جاری ہے)

پاکستان میں جمہوریت فنکشنل ہو رہی ہے ۔ امید ہے انتخابات وقت پر ہوں گے بلکہ اس کا عمل شروع ہو چکا ہے اور صاف اور شفاف انتخابات کے بعد کا عمل اداروںں کی مضبوطی کا باعث بنے گا ۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک خلائی مخلوق کے ختم نہ ہونے کی بات ہے تو اس مرتبہ یہ ہونے جارہا ہے کہ (ن) لیگ محمد نواز شریف کی قیادت میں خلائی مخلوق کو شکست فاش سے دوچار کرے گی ۔ خلائی مخلوق کے ہاتھوںتراشے گئے جو لوٹے ہماری جماعت میں شامل ہوئے تھے ہم سمجھ رہے تھے کہ انہیں جمہوری جماعت کا رنگ چڑھ جائے گا لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور ان پرمنافقت کا رنگ غالب رہا اوراب یہی لوگ پارٹی کو چھوڑ کر جارہے ہیں ۔

کبھی (ق) لیگ کو بنایا گیا تھا او رآج پی ٹی آئی کو بنایا جارہا ہے اور اس کا انجام بھی (ق) لیگ سے مختلف نہیں ہوگا ۔ بلکہ ہمیں تو افسوس ہے کہ ایک اچھی بھلی پارٹی کو (ق) لیگ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان خلائی مخلوق اورا پنے گھر سے ملنے والی خبروں سے مطمئن نظر آرہے ہیں لیکن میری نظر میں جو حالات ہیں اور ان پر یہ مثال بالکل فٹ بیٹھتی ہے کہ پورا گائوں بھی مر جائے لیکن ’’ وہ ‘‘ پھر بھی نمبردار نہیں بن سکتا ۔

انہوںنے کہا کہ چیئرمین نیب کا بطور اعلیٰ عدلیہ جج کردار بہت بہتر رہا ہے ۔ یہ بات علم میں آئی ہے کہ چیئرمین نیب معاملات کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے نیچے جو نیب ہے وہ تو ساری 1999ء سے چلی آرہی ہے ۔ سندھ میں کلین چٹیں دی جارہی ہیں۔ پیر مظہر الحق جن پر 13ہزار اساتذہ کی بھرتی کیلئے پانچ ارب لینا ثابت ہو چکا ہے ، مظفر ٹپی جیسا شخص اگر صادق او رامین ہے تو پھر بے ایمان کون ہے ۔

اگرفریال تالپور نے کبھی کسی ٹرانسفر پوسٹنگ کیلئے کمیشن نہیں لی تو پھر اس کے بعد قیامت ہی باقی ہے اور اس کا انتظار کیا جائے ۔ چیئرمین نیب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ پیپلز پارٹی نیب کی حمات میں نعرے لگارہی ہے اور اسے کلین چٹیں مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ کو عزت دینی چاہیے ۔

انہوں نے پنجاب میں نگراں وزیراعلیٰ کی مشاورت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید سے رابطہ ہوا تھا اور انہوںنے دو نام دئیے ہیں جووزیر اعلیٰ شہباز شریف سے ڈسکس ہوئے ہیں۔ اگر محمود الرشید اپنی جماعت کو خوش کرنے یا میڈیا میں خبر بنانے کے لئے انکار کر رہے ہیں تو ان کی مرضی ہے اس پرمیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

اگر اتفاق ہو جائے تو اچھی بات ہے لیکن اگر اس کے لئے اسمبلی کی کمیٹی بن جائے اور اگر یہاں بھی طے نہ ہو اور معاملہ الیکشن کمیشن میں چلاجائے تو بھی ٹھیک ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نواز شریف کی مقبولیت کو ٹارگٹ کرنے کے لئے ختم نبوت کا شوشہ چھوڑا گیا اس کے بعد چار ارب نو ے کروڑ ڈالر بھارت بھجوانے کا شوشہ سامنے آیا اور اب ان کے بیان کو اپنی معنی پہنا کر پراپیگنڈا کیا جارہا ہے ۔

اس معاملے پر میڈیا میں زبردستی پروگرام کرانے کی کوشش کی گئی ۔ خاص سول سوسائٹی کے ذریعے ایف آئی آرز درج کرانے کیلئے درخواستیں دی گئی لیکن جب سول سوسائٹی سے بینرز لگوائے گئے تو سب کچھ سامنے آگیا ، اس سول سوسائٹی کے کردار کو بند ہونا چاہیے یہ ان کا کام نہیں ،یہ نہ صرف خود کو مشکل میں ڈالیں گے بلکہ سسٹم کو بھی خراب کریں گے۔