اقتصادی راہداری کے ذریعے چین کو پہلی مرتبہ زمینی راستے سے بھی آم برآمد کیا جائے گا ، سرپرست اعلیٰ پی ایف وی اے وحید احمد

جمعرات مئی 16:30

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) پاکستان سے رواں سیزن آم کی برآمدات کاآغاز 20مئی سے کیا جائے گا ، جبکہ ایکسپورٹ کا ہدف ایک لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر وحید احمد کے مطابق پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی(کلائمنٹ چینج) کے اثرات کی وجہ سے آم کی پیداوار 35فیصد تک کم رہنے کی توقع ہے۔

آم کے حالیہ سیزن میں اقتصادی راہداری کے ذریعے پہلی مرتبہ چین کو زمینی راستے سے بھی آم ایکسپورٹ کیا جائے گا۔ وحید احمد کے مطابق رواں سیزن آم کی ایکسپورٹ کا ایک لاکھ ٹن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس سے 95سے 100ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔

(جاری ہے)

رمضان کے دوران آم کی آمد کی وجہ سے برآمدات کو بھی فائدہ ہوگا اور دنیا بھر میں پاکستانی آم روزے داروں کے دسترخوان کی زینت بنیں گے۔

رمضان کے ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے بھی برآمدی مالیت میں اضافہ ہوگا۔ پیداوار میں 50فیصد تک کمی کی وجہ سے گزشتہ سیزن کے لیے ایک لاکھ ٹن کا ہدف پورا نہیں ہوسکا تھا اور برآمدات 81ہزار ٹن تک محدود رہی تھیں۔ وحید احمد نے کہا کہ رواں سیزن بھی خلیجی ممالک، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک پاکستانی آم کے بڑے خریدار رہیں گے تاہم چین کے امپورٹرز کی جانب سے بھی پاکستانی آم کی امپورٹ میں گہری دلچسپی ظاہر کی جارہی ہے اور بڑی تعداد میں چین کو پاکستانی آم کی ایکسپورٹ انکوائریزموصول ہورہی ہیں۔

پاکستان سے پہلی مرتبہ اقتصادی راہداری کے ذریعے آم کی ایکسپورٹ کی جائے گی ۔ رواں سیزن چین کو 500سے 2000ٹن تک آم برآمد کیے جانے کی توقع ہے جبکہ چین کی مارکیٹ پوری طرح ڈویلپ ہونے کی صورت میں چین پاکستان کی بڑی منڈی بن سکتا ہے جہاں سالانہ 20ہزار ٹن تک آم ایکسپورٹ کیا جاسکے گاجبکہ جاپان کو بھی 100سے 150ٹن آم برآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال چین سمیت، مالدیپ اور یورپی ملکوں میں پاکستانی آم کی تشہیری سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔

ایران بھی پاکستان کے آم کا اہم خریدار ہے تاہم ایرانی کرنسی کی قدر میں غیرمعمولی کمی کی وجہ سے برآمد کنندگان کو اچھی قیمت نہ ملنے کی توقع ہے۔ کلائمنٹ میں تبدیلی اور گلوبل وارمنگ پاکستان میں آم کی پیداوار کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے۔ گزشتہ سال بھی آم کی مجموعی پیداوار 50فیصد تک کم رہی تھی جبکہ رواں سیزن میں بھی 35فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔

سندھ میں آم کی پیداوار کے علاقوں حیدرآباد ڈسٹرکٹ، ٹنڈو الہ یار، میرپور خاص میں آم کے باغات پانی کی قلت سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پنجاب میں آم کی مجموعی پیداوار 35سے 40فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے، پنجاب میں ،مظفر گڑھ، ملتان، رحیم یار خان اور شجاع آباد آم کے علاقوں میں بھی آم کی پیداوار 30سے 50فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے۔ آم کی پیداوار میں کمی کے ساتھ آم کا سائز بھی چھوٹا رہا ہے طلب کے مقابلے میں رسد بڑھنے سے اس سال آم کی تھوک قیمت بھی 2400سے بڑھ کر 3000روپے تک رہنے کا امکان ہے۔

آم کی پیدوار کے مختلف علاقوں میں سردیوں کا موسم دیر تک رہنے سے بھی آم کی پیداوار متاثر ہوئی ہے دوسری جانب کلائیمیٹ میں تبدیلی کی وجہ سے نئی نئی بیماریوں کے حملے کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے آم کی پیداوار خدشات کا شکار ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن گزشتہ کئی سال سے کلائمنٹ چینج کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ریسر چ اینڈ ڈیولپمنٹ سرگرمیوں کے فروغ کا مطالبہ کرتی رہی ہے ۔

زراعت کی بہتری کی ذمہ داری اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو منتقل ہونے کی وجہ سے مربوط کوششوں کا فقدان پایا جاتا ہے۔ وحید احمد نے کہا کہ آم کی ایکسپورٹ کا ہدف پورا کرنے کے لیے ملک میں سیاسی استحکام، امن و امان کی صورتحال بہتر رہنے کے ساتھ ایئرلائنز، شپنگ کمپنیوں، کسٹم ، پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے ایئرلائنز پر زور دیا کہ پاکستان کے توازن ادائیگی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے موزوں اور مناسب ایئرفریٹ مقرر کیا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت کی وجہ سے دشوار ہوتی مسابقت کو آسان بنایا جاسکے۔