فوجی سائنس کے معیار کو بہتر بنایا جائے،چینی صدر کی ہدایات

فوجی سائنسی اکادمی نے ملک کے دفاع اور فوجی دستوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے

جمعرات مئی 16:40

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) چین کے صدر شی جن پھنگ نے جدید فوجی سائنس کی ترقی اور نئے دور میں مضبوط فوج کی تشکیل کی حمایت کیلئے اعلیٰ سطحیٰ فوجی تحقیقی اداروں کے قائم کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ،شی نے جو کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی)کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز عوامی سپاہ آزادی کی فوجی سائنس اکادمی کے معائنے کے دروران کیا،اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ فوجی سائنس فوجی طریقوں کی رہنمائی اور تبدیلیوں کی قیادت کرنے میں اہم قوت ہے انہوں نے کہا کہ تحقیق حربی نوعیت کی ہونی چاہے مسلح افواج کی ضررویات کو پورا کیا جانا چاہیے اور آگئے دیکھنے کی اہلیت کے حامل ہونی چاہیے ۔

صدر شی نے کہا کہ فوجی سائنسی اکادمی چینی فوج کا ایک اہم سائنسی تحقیقی ادارہ ہے جس نے ملک کے دفاع اور فوجی دستوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے فوجی تھیوریوں و ٹیکنالوجیوں ،تحقیق و طریقوں کے بہتر انضمام کے علاوہ فوجی وشہری افادیت پر زور دیا ،انہوں نے کہا کہ ہمیں مسلح افواج کی سیاسی وفاداری میں اضافہ کرتے رہنا چاہیے اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں مستحکم بنانا چاہے اور انہیں قانون کے مطابق چلانا چاہیے،اکادمی میں متعدد ممتاز فوجی سائنسدانوں سے ملاقات کے دوران شی نے مضبوط فوج کی تشکیل میں زبردست کردار ادا کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کی انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ ماہرین کا احترام کریں اور ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں اور اعلیٰ سطحیٰ فوج محقق کی ٹیم تیار کریں ،اکادمی کی طرف سے پیش کئے جانے والی کارکردگی رپورٹ سننے کے بعد شی نے ایک اہم تقریر کی جس میں انہوں نے کہا کہ اجادات کو انتہائی اہمیت دی جانی چاہیے انہوں نے فوجی تحقیق ،دفاعی ٹیکنالوجی اور فوجی تحقیق کے تنظیمی ماڈل پر زور دیا۔

متعلقہ عنوان :