بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ چین کا اور کامیابیاں دنیا کیلئے ہیں،چینی وزیر خارجہ

بیلٹ اینڈ روڈ ممالک کی کل تجارتی مالیت40 کھرب اور سرمایہ کاری 60 ارب امریکی ڈالرز سے تجاوز کر گئی ہے،75 بیرونی اقتصادی و تجارتی تعاون کے زونز قائم ہوئے ہیں،جزیرہ نما کوریا کے مسئلے سے متعلق فریقین کو ایک ہی سمت کا تعین کرنا چا ہیے ،صورتحال میں بڑی مشکل سے نرمی نظر آ رہی ہے اور شمالی کوریا نے اس کے لیے مثبت اقدامات اختیار کیے ہیں‘چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی میڈیا سے گفتگو دی بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر سے مختلف ممالک کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لئے نیا راستہ فراہم کیا جائے گا، وانگ ای

جمعرات مئی 16:40

پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ چین کا اور کامیابیاں دنیا کیلئے ہیں، بیلٹ اینڈ روڈ ممالک کی کل تجارتی مالیت40 کھرب اور سرمایہ کاری 60 ارب امریکی ڈالرز سے تجاوز کر گئی ہے،75 بیرونی اقتصادی و تجارتی تعاون کے زونز قائم ہوئے ہیں،جزیرہ نما کوریا کے مسئلے سے متعلق فریقین کو ایک ہی سمت کا تعین کرنا چاہیئے ،صورتحال میں بڑی مشکل سے نرمی نظر آ رہی ہے اور شمالی کوریا نے اس کے لیے مثبت اقدامات اختیار کیے ہیں۔

چائنہ ریڈیو انترنیشنل کے مطابق چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے پیرس میں فرانس کے وزیر خارجہ جین ییو لی ڈرائن کے ساتھ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے ملاقات کی۔انہوں نے کہا کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو چین نے پیش کیا ۔

(جاری ہے)

تاہم اس سے متعلق مواقع اور کامیابیاں دنیا کے لئے ہیں۔دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو پیش کرنے کے بعد پانچ سالوں میں چین اور وابستہ ممالک کی کل تجارتی مالیت چالیس کھرب امریکی ڈالرز سے تجاوز کر گئی ہے۔

اور سرمایہ کاری کی مالیت ساٹھ ارب امریکی ڈالرز سے زیادہ ہے۔پچہتر بیرونی اقتصادی و تجارتی تعاون کے زونز قائم ہوئے ہیں اور مقامی علاقوں کے لئے دو لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔حقیقت سے ظاہر ہوا ہے کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو گلوبلائزیشن کے زمانے کی ضروریات سے مطابقت رکھتا ہے اور وابستہ ممالک کے عوام کے لئے حقیقی مفادات لائے جائیں گے۔

خاص طور پر موجودہ غیر یقینی کی عالمی صورتحال میں دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو سے مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لئے نیا راستہ فراہم کیا جائے گا۔وانگ ای نے مزید کہا کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو میں مختلف شرکا ہیں اور ان ممالک کی ترقی کے مختلف مرحلے ہیں۔اور تعاون کی ضروریات بھی مختلف ہیں۔اس لئے دی بیلٹ اینڈ روڈ کو مختلف شرکا کی حقیقی ضروریات کے مطابق آگے بڑھایا جانا چاہیئے۔

صحافیوں کے سوالات کے جواب میں جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف فریقین کو مختلف سمتوں کی بجائے ایک ہی سمت کا تعین کرنا ہے۔ ؂وانگ ای نے کہا کہ جزیرہ نما کوریا کے مسئلے کے حل کے لیے اس صورتحال سے گریز کرنا چاہیئے کہ ایک فریق لچک کا مظاہرہ کر رہا ہے، لیکن اس کے برعکس دوسرا فریق مزید سخت ہو رہا ہے۔

وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ جزیرہ نما کوریا کی صورتحال میں بڑی مشکل سے نرمی نظر آ رہی ہے اور شمالی کوریا نے اس کے لیے مثبت اقدامات اختیار کیے ہیں جوکہ تحسین کے لائق ہیں ۔دوسرے فریقین کو خاص طور پر امریکہ کو حال ہی میں رونما ہونے والے امن کے موقع کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیئے۔وانگ ای نے کہا کہ مختلف فریقین کو امن میں رکاوٹ بننے کی بجائے اس کو فروغ دینے والا بننا چاہیئے۔