محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب کی جانب سے انسانی تحفظ پالیسی 2018کے حوالے سے منعقدہ سیمینا ر اختتام پذیر

جمعرات مئی 16:40

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) محکمہ انسانی حقو ق وا قلیتی امور کی جانب سے لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں صوبہ پنجاب کی کی پہلی مرتبہ نیشنل ایکشن پلان کے مطابق انسانی حقو ق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے پالیسی 2018کے تعارفی سیمینار کا اختتام ہوگیا ۔ سیمینار میں صوبہ پنجاب کے محکمہ جات کے علاوہ سول سوسائٹی کی بڑی تعداد،قانون دان اور میڈیا نمائندگان نے خصوصی شرکت کی۔

سیکرٹری انسانی حقوق و اقلیتی امور عاصم اقبال نے شرکاء کو دوران بریفنگ بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ پنجاب میں ایسی پالیسی نافذ کی جا رہی ہے ، جو کہ 2016میں قائم کیئے جانیوالے نیشنل ایکشن پلان کمیشن کی تجاویز پر مشتمل ہے اور پالیسی کے نافذا لعمل ہوجانے کے بعد صوبہ بھر میں تمام طبقات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

(جاری ہے)

ڈائریکٹر انسانی حقو ق و اقلیتی امور محمد یوسف نے تمام شرکا ء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ ہر سوسائٹی کے بنیادی حقوق میں اہمیت کا حامل ہے اور انسانی حقوق کی حفاظت صرف آئینی حق نہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق بھی ذمہ داری ہے۔ سیمینار کے اختتام پر انسانی حقو ق کمیشن کی جانب سے محمد خالد نے محکمہ انسانی حقو ق وا قلیتی امور کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے بہترین اقدامات اور لوگوں کو آگاہی میں کردار کی بھی تعریف کی۔