تحریک انصاف نے پی پی پی اور ن لیگ کی اہم وکٹیں گرا دیں

سابق اسپیکرافضل ساہی، غلام بی بی بھروانہ، نذیرسلطان رکن پنجاب اسمبلی چوہدری اشرف کا تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان،عمران خان نے خیرمقدم کیا۔ میڈیا رپورٹس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مئی 16:50

تحریک انصاف نے پی پی پی اور ن لیگ کی اہم وکٹیں گرا دیں
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17مئی 2018ء) : مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں ایم این اے نذیرسلطان، سابق اسپیکر افضل ساہی اور غلام بی بی بھروانہ نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے، عمران خان نے ان کی پارٹی میں شمولیت کا خیرمقدم کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جھنگ اور فیصل آباد سے مسلم لیگ ن کے ایم این اے نذیرسلطان، سابق اسپیکر افضل ساہی اور جھنگ سے پیپلزپارٹی کی رہنماء غلام بی بی بھروانہ نے ملاقات کی۔

جس میں ملک کی سیاسی صورتحال اور آئندہ عام انتخابات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں نوازشریف کے حالیہ متنازع بیان پربھی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر پارٹی رہنماء جہانگیر ترین،، رائے حسن شاہ نواز اور سابق ایم این اے صاحبزادہ سلطان محبوب بھی موجو دتھے۔

(جاری ہے)

اس موقع پ ان تمام رہنماؤں نے عمران خان کی قیادت پراظہار اعتماد کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔

واضح رہے آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر ہوا کا رخ دیکھ کر پارٹیاں اور وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ آئندہ ایک دو مہینوں میں ٹکٹ کے خواہش مند امیدوار پرانی پارٹیاں چھوڑ کرنئی جماعتیں جوائن کرلیں گے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں کی لائن لگ گئی ہے۔ نواز شریف کی پاناما کیس میں نااہلی کے ساتھ ارکان اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل ہونا شروع ہوئیں۔

جو کہ ابھی تک جاری ہیں۔ دوسری طرف اب نوازشریف کے حالیہ بیان کوبنیاد بنا کربھی سیاسی جماعتوں کے سربراہان ن لیگی رہنماؤں کوقائل کرنے کی کوشش کریں گے۔۔تحریک انصاف کواقتدار ملنے کے ممکنات بڑھ رہی ہیں۔ جس کے باعث پیپلزپارٹی کے افضل چن، ق لیگ کے چودھری ظہیرالدین، سلطان چیمہ اور پی پی سمیت مسلم لیگ ن کے متعدد رہنماوں اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماؤں نے شمولیت اختیار کرلی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان دوسری جماعتوں سے وفاداریاں تبدیل کروا کے شامل کرنے والوں کے بل بوتے پرحکومت بنانے کی تیاری میں ہیں۔جبکہ دوسری جانب آئندہ عام انتخابات میں عوام کس کوحکومت کیلئے منتخب کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ عوام ہی کرے گی۔