ن لیگ دو نظریاتی دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے،شاہ محمود قریشی

ایک دھڑے کی قیادت نواز شریف اور دوسرے کی چوہدری نثار کررہے ہیں،شاہد خاقان عباسی اپنے قائد کے ساتھ ایکٹنگ کررہے ہیں، رہنما تحریک انصاف

جمعرات مئی 17:25

ن لیگ دو نظریاتی دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے،شاہ محمود قریشی
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) دو نظریاتی دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے ، ایک دھڑے کی قیادت نواز شریف اور نو وارد حواری جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت چوہدری نثار کررہے ہیں اور ملک مخالف بیانات کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے جبکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مجبوری میں اپنے قائد کے ساتھ ایکٹنگ کررہے ہیں ، نواز شریف کے ا حسان تلے دبے ہوئے ہیں ان کا مانا ہے وہ وزیراعظم نواز شریف کی وجہ سے بنے ہیں اس لئے وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ملک دشمن بیانات کیخلاف مسلم لیگی کارکنان اور ارکان کے تحفظات متوقع تھے کیونکہ مسلم لیگ (ن) دو نظریاتی دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے ایک دھڑا نواز شریف اور نو وارد حواریوں پر مشتمل جبکہ دوسرا دھڑا چوہدری نثار کے ساتھ ہے جبکہ کارکنان کنفیوژن کا شکار ہیں کہ کس کا ساتھ دیں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر مسلم لیگی ارکان و کارکنان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان مخالف اور اداروں سے ٹکرائو کی پالیسی پر گامزن نواز شریف کے ساتھ ہیں یا مفاہمتی رویے والے شہباز شریف اور چوہدری نثار کے ساتھ لیکن اگر مسلم لیگی ارکان کی بڑی تعداد نے تمام ترحالات کے باوجود نواز شریف کا ساتھ دیا تو آئندہ عام انتخابات میں ان کی پارٹی کو بہت نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نواز شریف کے احسان تلے دبے ہوئے ہیں کہ انہیں وزیراعظم بننے کا اعزاز نواز شریف کی وجہ سے حاصل ہے اور اسی وجہ سے وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں اور کبھی نواز شریف کے بیانیے کی حمایت کرتے ہیں اور کبھی اداروں کے سامنے سچا ثابت ہونے کیلئے نواز شریف کے بیانات کی مخالفت کی ایکٹنگ کرتے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کسی حد تک معاملہ سلجھانے کی کوشش کی لیکن نواز شریف نے اپنے بیان پر قائم رہ کر اور دوبارہ وہی بیان دہرا کر ان کی محنت پر پانی پھیر دیا جبکہ نواز شریف کے ممبئی حملو بارے بیان مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت میں کمی اور مشکلات میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں ۔