مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ’’ورلڈ ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سوسائٹی‘‘ کا دن منایا گیا

جمعرات مئی 18:27

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے "ورلڈ ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سوسائٹی"کا دن منایا گیا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹیلی کمیونیکیشن شعبہ کے پروفیسر اور مہران یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید عمرانی نے کہا کہ اس سال مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلیجنس) کے عنوان سے ورلڈ ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن سوسائٹی کا دن منایا جا رہا ہے جس کی شروعات 1969 میں اقوام متحدہ کی جانب سے کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی وجہ سے انسان کو جہاں فوائد ملے ہیں، وہیں نقصان بھی ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالوحید عمرانی نے کہا کہ اس بات کا انتخاب استعمال کرنے والوں کو کرنا ہے کہ ایجاد کا منفی استعمال کرتا ہے یا مثبت ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بائیو میڈیکل انجینئرنگ شعبہ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر احسان احمد عرسانی نے کہا کہ 2050 تک دنیا کی بہترین کتاب کوئی انسان نہیں بلکہ کمپیوٹر خودلکھے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس وقت میڈیکل سے لیکر کرائے کی کار یا رکشہ کرانے کے لئے ہمیں ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو کام انسان کرتے تھے ان کی جگہ اب سافٹ ویئرز اور روبوٹس نے لے لی ہے۔ انہوںنے کہا کہ آنے والا دور آرٹیفیشل انٹیلجنس کا ہے جس کے لئے ہر روز نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ٹیلی کمیونیکیشن شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر فیصل کریم شیخ نے کہا کہ موسم کا حال جاننے سے لیکر موبائل کے ذریعے قدم گننے تک آرٹیفشل انٹیلجنس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے اور بہت سے ممالک میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور ایجادات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر صنم ناریجو و دیگر نے بھی خطاب کیا، مہران یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی-