اجلاس کے دوران چار سے پانچ اراکین قومی اسمبلی کے علاوہ تمام ارکان کی نواز شریف کے بیان کی مکمل تائید و حمایت

نواز شریف کے بیان کی تائید نہ کرنے والے اراکین نے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کو نامناسب قرار دیدیا اراکین کے تحفظات نوازشریف کے سامنے رکھوں گا ،ْوزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی یقین دہانی ڈرایا جا رہا ہے کہ (ن) لیگ نہیں چھوڑیں گے تو آپ کے خلاف مقدمات بنیں گے ،ْبعض اراکین کی شکایت چوہدری نثار کو اجلاس میں ہونا چاہیے تھا ،ْایک رکن کا سوال …… چوہدری نثار کہیں مصروف ہونگے ،ْ شہباز شریف نواز شریف سے زیادہ محب وطن کوئی نہیں، میری موجودگی میں امریکی صدر بل کلنٹن نے 5ارب ڈالرز کی پیش کش کی ،ْنوازشریف نے ٹھکرادی ،ْ خطاب

جمعرات مئی 18:33

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران پارٹی صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ جس نے بھی نواز شریف کا حالیہ انٹرویو کروایا وہ سب سے بڑا دشمن ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں حکمراں جماعت کے پارلیمانی ارکان کا اجلاس ہوا جس میں 100 سے زائد اراکین اسمبلی شریک ہوئے۔

اجلاس کے دوران پارٹی قائد میاں نواز شریف کے حالیہ متنازع انٹرویو پر بعض اراکین کی جانب سے بات کی گئی، اس موقع پر ایک رکن نے شہباز شریف سے پوچھا کہ نواز شریف کا انٹرویو کس نے کرایا جس پر پارٹی صدر نے کہا کہ جس نے بھی یہ انٹرویو کرایا وہ سب سے بڑا دشمن ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران چار سے پانچ اراکین قومی اسمبلی کے علاوہ تمام ارکان نے نواز شریف کے بیان کی مکمل تائید و حمایت کی جب کہ نواز شریف کے بیان کی تائید نہ کرنے والے اراکین نے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کو نامناسب قرار دیا، جن میں عاشق گوپانگ، شیخ فیاض الدین، عبدالرحمان کانجو اور شفقت بلوچ شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق اراکین قومی اسمبلی نے کہا کہ نواز شریف کے بیان سے پارٹی کو نقصان پہنچا اور اس بیان سے قبل ختم نبوت والے معاملے نے بھی پارٹی کو نقصان پہنچایا۔ذرائع کے مطابق اراکین کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے بیان کے بعد پہلے کی طرح ماحول سازگار نہیں رہا ،ْالیکشن مہم میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اراکین نے شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ رہنمائی کریں کہ موجودہ حالات میں کس طرح دفاع کریں، اس موقع پر شہباز شریف نے اراکین کو یقین دلایا کہ (ن) لیگ کے قائد کے بیان پر ہر فورم پر بات کی جاچکی ہے، اس حوالے سے پارٹی پالیسی وضع کریں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ اراکین کے تحفظات نواز شریف کے سامنے رکھیں گے، (ن) لیگ کی کارکردگی ہی سب سے بڑا دفاع ہے اور آئندہ انتخابات میں کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن لڑیں گے۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران بعض اراکین نے شکایت کی کہ ڈرایا جا رہا ہے کہ (ن) لیگ نہیں چھوڑیں گے تو آپ کے خلاف مقدمات بنیں گے۔اجلاس میں ایک رکن نے رائے دی کہ چوہدری نثار کو اجلاس میں ہونا چاہیے تھا اس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ چوہدری نثار کہیں مصروف ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں احتساب کا زیادہ دباؤ ہے جہاں چند ووٹوں سے نتائج تبدیل ہوتے ہیں، صوبے میں پارٹی وفاداری تبدیل نہ کرنے پر احتساب کا خوف دلایا جارہا ہے۔اجلاس سے خطاب کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کی قیادت پر فخر ہے ،ْ نواز شریف کو قائل کریں گے کہ وہ حساس معاملات پر پارٹی مشاورت کے بعد بیان دیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 4 مارشل لاء لگائے گئے، مارشل لاء سے ملک آگے نہیں پیچھے گیا، ملکی ترقی کا واحد راستہ جمہوریت ہی ہے، کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جس نے مسلم لیگ ن سے زیادہ کارکردگی دکھائی، ووٹرز مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہیں۔ذرئع کے مطابق اجلاس کے دوران شہبازشریف نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ مودی کے لیے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں، مودی نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وبربریت کی تاریخ رقم کی ہے۔

(ن) لیگ کے صدر کا کہناتھا کہ دھرنوں اور دیگر منفی ہتھکنڈوں سے ملکی ترقی کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی تاہم نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ عوام سے گزشتہ انتخابات میں کئے گئے وعدوں کو مسلم لیگ (ن) نے پورا کیا، اورنج ٹرین کی آزمائشی سروس کا آغاز بھی ایک بڑے وعدے کی تکمیل ہے۔

حکمراں جماعت کے صدر کا کہنا تھا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود مسلم لیگ (ن) آج بھی ملک کی سب سے مقبول سیاسی جماعت ہے، عوام کی طاقت سے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے۔شہبازشریف نے کہا کہ نواز شریف سے زیادہ محب وطن کوئی نہیں، میری موجودگی میں امریکی صدر بل کلنٹن نے 5ارب ڈالرز کی پیش کش کی لیکن نواز شریف نے ملک کی خاطر پیشکش مسترد کرکے ایٹمی دھماکے کیے، ایسے لیڈر کے بارے میں اس طرح کی باتیں کی جائیں گی تو یہ غلط ہے۔۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے وزیرِ داخلہ احسن اقبال کے لیے پھولوں اور پھلوں کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔